شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے لیے اندر ہی اندر گیم تیار، بُرے وقت میں نواز شریف اور مریم نواز کو جھٹکا لگ گیا

لاہور(نیوز ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء شوکت بسرا نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ناراض رہنماء سینئر سیاستدان چوہدری نثار مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہے بلکہ وہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور ان کے بیٹے

حمزہ شہباز کے لیے بہت کچھ کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو باہر بھیجنے کیلئے پھر سے ڈیل کی کوشش کی گئی ، اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قاصد دو تین بار آچکے ہیں لیکن انہیں کورا جواب دے دیا گیا ہے۔دوسری طرف سینئر صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار بھجی پکچر میں آ چکے ہیں،وہ دوبارہ سیاسی میدان میں متحرک ہوں گے ، انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار اپنے پاس موبائل نہیں رکھتے، ان سے رابطہ کرنا بہت مشکل ہے۔بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہو گا کہ محمد بن سلمان سے رابطہ کرنا آسان ہوتا ہے لیکن چوہدری نثار سے مشکل ہے ، کہا جا رہا ہے کہ چوہدری نثار اور شہباز شریف رابطے میں ہیں۔چوہدری نثار ن لیگ کے رہنماؤں سے بھی بات کرتے ہیں ، جو لیگی رہنما چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے تصادم ، کشیدگی اور تلخی پیدا نہ ہو ان کا رابطہ چوہدری نثار سے رہتا ہے ، نواز شریف کا تو سیدھا رویہ یہی ہے کہ بلیک میل کروں گا اور کر کے دکھاؤں گا،ان کی انا بھی عمران خان سے چھوٹی نہیں ہے۔سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ مریم نواز کو این آراو مل گیا، جلد باہر چلی جائیں گی، ہوسکتا ہے کہ مریم نوازڈسکہ الیکشن کروا کے باہر چلی جائیں،مریم نواز اسی لیے خاموش ہیں،مریم نواز کو خبر کردی گئی کہ معاہدہ ہوچکا ہے ، انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف این آراو کے تحت باہر گئے ہیں، ان کے پلیٹ لیٹس کم ہوگئے، اگلے معاہدے میں خرابی تب پیدا ہوئی جب مریم نواز کو نہیں جانے دیا گیا، عمران خان ڈٹ گئے، اب خبر یہ ہے کہ مریم نواز بھی جائے گی، کب جائیں یہ مجھے نہیں بتایا، سسٹم این آراو دے رہا ہے، ادارے این آراو دے رہے ہیں، عدالت ہی کسی سے ضمانت لے لیتی ہے، کوئی کیا کرسکتاہے؟وزیراعظم کا ان پر کنٹرول نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *