دو مو قعوں پر کبھی اپنی زبان نہ کھولنا

زندگی میں کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں ا ور کچھ خون چوسنے کے۔ کچھ لوگ اپنی ذات کے لیے خود کو مٹالیتے ہیں

اور کچھ لوگ ذرا سی بات پر تماشہ بنا لیتے ہیں۔ چھ جگہ ہنسنا پچیس زن ا کے برابر ہے ۔ قب رستان میں، جنا زے کے پیچھے ، علماء کی مجلس میں، تلاوت قرآن پاک میں، مسجد میں ، اذان کے وقت۔ سنہری باتیں : سچ تمام برائیوں کاعلاج ہے سچی بات کہنا اورسننا عبادت ہے ۔ سچائی جھوٹ کے شر سے محفوظ رکھتی ہے۔ جس نے خالق، مخلوق اور مقصود کو پہچان لیا اس نے زندگی کے سب سے بڑے راز کو جان لیا۔ ایسا بھی ہوتا ہے ۔
کہ اللہ ہمیں پھولوں سے بھرا ٹوکر ا دینا چاہتا ہے ، اور ہم صرف ایک پھول کی ضد لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ اے دیکھنے والے ! اپنے رب کا احسان اور کر م دیکھ جو فرشتے شام کو تیرے گن اہ اس کے پا س لے جاتے ہیں۔ وہ صبح ان ہی کے ہاتھ تیر ا رزق بھیجتا ہے۔ تم زندگی میں ایک ایک منٹ کی حفاظت کرو، اس کا صیحح استعمال کرو، آنے والا ، وقت تمہیں تحفظ دے گا۔ عبادتیں قبول ہوں نہ ہوں ، ندامتیں ضرور قبول ہوتی ہیں یہی توبہ کا فلسفہ ہے۔ نیت صاف ہوجائے تو نصیب بھی بدلنے لگتا ہے۔ خونی رشتے وہ وٹامنز ہوتے ہیں جن کے بغیر انسان اپنی جوانی تو گزار سکتا ہے بڑھاپا نہیں۔ میرا اللہ میرا ایسا دوست ہے کہ میری چھوٹی چھوٹی اچھائیوں پر خوش ہوتا ہے اور ثواب کے ڈھیر لگادیتا ہے۔
اور میرا اللہ میرا دوست ہے کہ میں کوئی غلطی کردوں ۔ کوئی گن ا ہ کردوں تو شرمندگی کے دو آنسو کے عوض وہ مجھے معاف کردیتا ہے۔ اب دوست ایسے ہی تو ہوتے ہیں ۔ نرم دل لوگ بے وقوف نہیں ہوتے، وہ جانتے ہیں کہ لوگ ان کے ساتھ کیا کھیل ، کھیل رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ نظرانداز کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ایک خوبصورت دل ہوتا ہے۔ زندگی میں دو طرح کے لوگوں کے سامنے کبھی بھی اپنے الفاظ ضائع مت کریں۔ پہلا وہ جو آپ کے الفاظ سے آپ کی بات سے آپ کی فیلنگز کو نہیں سمجھ پاتا جو آپ کی خامو شی سے آپ کی تکلیف کا اندازہ نہیں کرپاتا۔ اور دوسرا وہ جو آپ کی تکلیف کو بغیر دیکھے ہی محسوس کر لیتا ہے ۔ آپ کے اندر کے درد کو جان لیتا ہے۔
اپنی خوشی کے لیے دوسروں کی مسرت کو خاک میں نہ ملاؤ۔ غرور کس بات کا صاحب آج زمین کے اوپر کل زمین کے نیچے۔ عطاء دیکھی تو رب کی دیکھی ورنہ کون دیتا ہے کسی کو اپنا محبوب ؐ۔ کنجوس شخص کتنا بدنصیب ہے کہ دنیا میں فقیروں جیسی زندگی گزارتا ہے اور قیامت کو امیروں جیسا حساب دے گا۔ میں روز گن ا ہ کرتا ہوں ۔ وہ چھپاتا ہے اپنی رحمت سے میں مجبور اپنی عادت سے وہ مشہور اپنی رحمت سے ۔ لوگ بدلتے نہیں ہیں بس صرف اتنا ہوتا ہے یاتو آپ میں ان کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ یا آپ سے زیادہ ، دلچسپ ان کو کوئی اور مل جاتا ہے۔ معاف ی اور توب ہ کی توفیق بھی مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے ۔ ورنہ آنکھوں پرلوہے کے پردے اور کانوں میں سیسہ پگھلا دیا جاتا ہے ۔ انسان کے سوچنے سمجھنے کی ہر صلاحیت سلب کرلی جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *