وٹامن ای کا استعمال انسانی صحت کے لیے کیوں ضروری ہے اور یہ اداکار اس کا استعمال باقاعدگی سے کیوں کرتے ہیں؟

آج کل کی تیز رفتار زندگی اور اس کے دباؤ کے سبب انسان کا جسم جلد تھکن ، ڈپریشن کا شکار ہونے لگا ہے مردوں کے اندر گنچ پن اور ڈھلکتا ہوا جسم وقت سے پہلے ہونے لگا ہے تو دوسری جانب عورتیں بھی وقت سے پہلے ہی سن یاس یا مینو پاز کا سامنا کر رہی ہیں- ان کی خوبصورتی وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہے جلد کی چمک دمک ماند پڑنے لگی ہے بال کمزور اور روکھے ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مختلف نسوانی مسائل کا شکار ہو رہی ہیں- ان تمام مسائل کا بنیادی سبب اگر ایک جانب ہمارا غیر صحت مند طرز زںدگی ہے تو دوسرا اس کا سب سے بڑا سبب جسم میں وٹامن ای کی کمی ہے-
وٹامن ای ہماری غذا کا ایک اہم جز ہے یہ عام طور پر ہری سبزیوں ،سویابین آئل ، سورج مکھی کے تیل اور ہرے پتوں میں پائی جانے والی سبزیوں میں پایا جاتا ہے اس کا استعمال دو طریقوں سےکیا جاسکتا ہے-وٹامن ای کا آئل چہرے کی خوبصورتی اور عمر کے اثرات کو روکنے کے لیے لگایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ خوبصورتی بڑھانے والی تمام کریموں کا یہ لازمی جز ہوتا ہے- اس کے علاوہ اس کو کھانے کے کیپسول کی صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جو کہ صحت کے کئی مسائل کا حل ہوتا ہے عام طور پر 400 ملی گرام کا ایک کیپسول دن بھر کے لیے کافی ہوتا ہے اور اس کو صبح ناشتے کے دس منٹ کے بعد لینا مفید ہوتا ہے-
رات کے وقت سونے سے قبل چہرے کو صاف پانی سے دھونے کے بعد وٹامن ای والے تیل کے چند قطرے کسی بھی کریم میں شامل کر لیں اور اس کو نرمی سے چہرے پر لگا دیں- اس سے ایک جانب تو جلد کی چمک دمک میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ دوسری جانب یہ چہرے کی جلد کو نم کر کے جھریوں کے بننے کے عمل کو روکتا ہے-
جلد پرپگمنٹ کی زیادتی کے سبب عام طور پر چھائیاں پڑ جاتی ہیں جن کو دور کرنے کے لیے وٹامن ای کو وٹامن سی کے ساتھ ملا کر چہرے پر لگانے سے نہ صرف چہرے پر موجود داغ دھبوں کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایکنی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے-
وٹامن ای کے کیپسول کا استعمال انسانی جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے اور اس کی قوت مدافعت کو بڑھا دیتا ہے-
خوبصورت اور گھنے بال مرد اور عورت دونوں کی شخصیت کے لیے ضروری ہوتے ہیں اس لیے اس کا استعمال بالوں کو مضبوطی فراہم کرتا ہے اور ان کو لمبا اور گھنا بناتا ہے- اس کے علاوہ یہ وقت سے پہلے بالوں کے سفید ہونے کے عمل کو بھی روکتا ہے-

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *