جاوید چوہدری کا اپوزیشن اتحاد کو تہلکہ خیز اور بڑے کام کا مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے نظیر بھٹو کے بے شمار بھائی اور سیاسی بازو تھے لیکن وہ اعتبار صرف واجد شمس الحسن پر کرتی تھیں اور واجد صاحب نے کبھی اس اعتبار کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی‘ ہم ان سے سو اختلاف کر سکتے ہیں

مگر جہاں تک بھٹو خاندان کے ساتھ ان کے بانڈ کی بات ہے یہ اس معاملے میں ٹھوس ہیں اور آج کے دور میں یہ کوئی چھوٹی بات نہیں‘ یہ وہ کریکٹر ہے جو اس وقت ہماری سیاست اور سوسائٹی دونوں میں ناپید ہو چکا ہے چناں چہ میں واجد شمس الحسن کو سلام پیش کرتا ہوں۔واجد شمس الحسن نے اپنی کتاب میں این آر او پر بھی بڑی تفصیل سے لکھا‘ یہ تفصیلات چشم کشا ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں ہم خود کو لاکھ آزاد اور خود مختارکہیں لیکن ہمارے تمام بڑے فیصلے ملک سے باہر دوسری قوتیں کرتی ہیں اور ہم صرف یہ فیصلے بھگتتے ہیں‘ واجد صاحب نے لکھا‘ پاکستان پیپلز پارٹی سے عقیدت رکھنے والے ایک صاحب رحمن چشتی لندن کی ایک کاؤنٹی میں کونسلر تھے‘یہ کسی وفد کے ساتھ پاکستان آئے‘ اسلام آباد میں ان کی ملاقات برطانیہ کے ہائی کمشنرسے ہوئی‘ رحمن چشتی نے ہائی کمشنر سے کہا ’’پاکستان کے حالات خراب ہیں۔برطانیہ کی حکومت جنرل مشرف پر الیکشن کرانے کے لیے پریشر کیوں نہیں ڈالتی؟‘‘ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ’’میں یہ کوشش کر سکتا ہوں لیکن مجھے پتا ہونا چاہیے بے نظیر بھٹو کیا چاہتی ہیں‘‘ رحمن چشتی نے کہا ’’بے نظیر الیکشن چاہتی ہیں‘دوسرا جنرل مشرف اگر صدر رہنا چاہتے ہیں تو پھر انھیں وردی اتارنا ہو گی‘‘ پیغام واضح تھا یعنی اگر مشرف وردی اتاردیں اور الیکشن کرادیں تو پیپلز پارٹی مذاکرات کے لیے تیار ہے‘ رحمن چشتی لندن میں بے نظیر بھٹو اور واجد شمس الحسن سے ملے اور انھیں ہائی کمشنر کا پیغام دیاکہ بی بی برطانوی وزیر خارجہ (فارن سیکریٹری) جیک اسٹرا کو خط لکھ دیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.