جب کوئی تمہارا بھروسہ توڑ دے ؟ ٹوٹے دل کے لیے غضب کی شاعری

آج آپ کو اریج احمد کے کچھ کلمات پیش کریں گے۔ خاموشیوں کے لیے ندا اور ہے میں لمحہ ناشاد میں ہوں

۔ روح میں بسی اداسیوں کے جزیرہ بے آباد میں ہوں ۔ پگھلا نہ سکے گی اب تیری گرمیاں معذرت ۔ میں اس قدر تیرے سرد رویےکے نقظہ انجماد میں ہوں۔ تیری یادوں کے خار زاروں میں الجھ کر زخمی ہوجایا کرتی ہے ۔ میری خیالات کی انگلیاں اکثر۔ اپنے اعتبار کی ٹوٹی ہوئی کرچیاں ہم چنتے بھی تو کیسے ۔ اس کی منافقت کے سنگ ریزے چن چن کر ہمارے ہاتھ لہو ولہان تھے۔
اس کی بے رخی اور بے تنہائی کا دوش اسے دیتے تو کیسے۔ اپنے کیے گئے فیصلوں پر تو ہم خو د بھی پشیمان تھے۔ اپنے شہر ذات کے سب دروازے اس نے بند کر ڈالے ہم پر۔ ہماری ذات کا مکین وہ کیسے بنتا۔ یہ ہم تو خود ہی لامکاں تھے۔ ہم سے بچھڑ کر اجڑ گیا تھا۔ وہ خوش تو نہیں تھا لیکن اسے کھو کر اس سے جدا ہو کر ، ہم بھی بہت پریشان تھے۔ میری ہنسی کے دھنک رنگوں کویوں محویت سے تکنے والے دیکھ ، میری روح کے چھالے بھی گر صاحب نظر ہے تو۔ وہ ایک شخص جو کہ رہتا ہے کسی راز کی صورت، میں اس کے فصوں سے نکلوں تو کچھ اور دیکھو۔
گھل گئے اس کے ذات کے رنگ میری بصارتوں میں ، کچھ ایسے کہ ہم جہاں بھی دیکھو تو اس کا عکس دلکش دیکھو۔ میرے پھٹے ہوئے لبا س سے جھلکتی مفلسی کو دیکھ کر سوگوار ہونے والے ، اگر جو میری روح کو پوشاک پر لگے درد کے پیوند تو دیکھ لیتا تو رودیتا۔ اریج احمد لکھتی ہیں۔ جلتے رہتے ہیں کئی خواب ، چپ چاپ شب بھر۔ جھڑتی رہتی ہے پلکوں میں راکھ ، آنسوبن کر۔ یہ جو ستا رے جھل ملاتے رہتے ہیں میری آنکھوں میں ۔ ترائی عکس ہے جو ٹھہر گیا ہے ان میں نمی بن کر۔ تنہائی کی گہری آہٹوں سے گونجتی رہتی سماعتیں ، قطرہ قطرہ گرتی رہتی ہیں تیری یاددل پر غم بن کر۔
تو باز رہے یا دور رہے بس خوش رہے جہاں رہے ۔ چاہے جی سکے نہ زندگی تو اورمیں کبھی ہم بن کر۔ کھٹکھٹاتے رہیے ایک دوسرے کے دروازے اکثر، ملاقاتیں نہ سہی آہٹیں آتی رہنی چاہیں۔ اریج احمد لکھتی ہیں۔ اداسی کے شانے سے میں سر ٹکائے بیٹھا ہوں۔ بے درد لمحوں کے ہاتھو ں میں ہاتھ تھمائے بیٹھا ہوں۔ یہ جو بکھرا ہوا میرے ارد گرد ۔ ستر رنگ دھواں ناجانے کتنے خوابوں کو پلکوں سے گرائے بیٹھا ہوں۔ ناجانے کیوں آنکھوں میں دھوا ں سے بکھرا ہوا ہے۔ شاید پھر کوئی خواب آتش حسرت میں جل گیا ہے۔
اریج احمد لکھتی ہیں۔ اعتبار کی سیڑھیوں پر انتہائی احتیاط ا ور بہت سوچ سمجھ کر قدم رکھیے۔ ہو سکتا ہے جن ہاتھوں میں یہ ہاتھ تھمائے آپ یہ سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں۔ وہی ہاتھ آپ کو ان سیڑھیوں سے نیچے دھکا دے ۔ اعتبا ر کی سیڑھیوں سے نیچے گرنے کے بعد روح پر جو گھاؤ لگتے ہیں وہ کبھی بھر نہیں پاتے۔ سلگتے رہتے ہیں زندگی بھر دھیمے دھیمے۔ اور بے یقینی ، حیر ت ،دکھ اور ملال کےزخم ہمیشہ تازہ رہتے ہیں۔ ایسے زخم جنہیں مرہم سے ہی آگ لگ جائے ۔ جنہیں مسیحائی مزید دکھ دے جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *