دنیوی عورتوں کا حوروں کے مقابلے میں حسن ایک عورت دو خاندانوں سے یا تین سے دنیا میں شادی کرتی ہے

حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے ارشاد وحورعین کے متعلق مجھے کچھ وضاحت فرمائیں

آ پ ﷺ نے فرمایا گوری گوری بھرئے ہوئے جسم والی گل لالہ کے رنگ کی آنکھوں والی اپنے حسن کی لطافت اور رقت جلد سے نظر کو حیران کردینے والی گدھ کے پر کی طرح لمبے بالوں والی آنکھوں کی خوبصورت پلکوں والی کو حورعین کہتے ہیں حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا آپ مجھے کانھن الیاقوت والمرجان کی تفسیر بیان فرمائیں آ پ نے ارشاد فرمایا یہ رنگت میں اس موتی کی طرح صاف شفاف ہوں گی جو سیپیوں میں ہوتا ہے اور جس کو ہاتھوں نے نہیں چھو ہواتا ہے میں نے عرض کیا آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کانھن بیض مکنون کی تفیسر بیان فرمائیں

آپﷺ نے ارشاد فرمایا ان کی رقت اور لطاف انڈے کے اندر کے چھلکے کی طرح ہوگی جو باہر والے موٹے چھلکے کے ساتھ ہوتا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد عُربا ًاتراباً کے متعلق بیان فرمائیں تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ یہ وہ عورتیں ہوں گی دنیامیں جن کی آنکھوں میں بوڑھاپے کیوجہ سے کیچڑ بھرا رہتا تھا اور سر کے بال سفید ہوگئے اللہ تعالیٰ ان کو بوڑھاپے کے بعد دوبارہ تخلیق فرمائیں گے اور ان کو کنواریاں کردیں گے ۔ ارشاد فرمایا کہ عرباً کا معنہ ہے کہ وہ اپنے خاوندوں سے عشق اور محبت کرنے والیاں ہوں گی اتراباً ایک ہی عمر پر ہونگی میں نے عرض کیا کیا دنیا کی عورتیں افضل ہونگی یا حورعین ارشاد فرمایا دنیا کی عورتیں حورعین سے افضل ہونگی جیسے ظاہر کا ریشم استر سے افضل ہوتا ہے میں نے عرض کیا یا رسواللہ یہ کیوں افضل کیوں افضل ہونگی ارشاد فرمایا ان کے اللہ کیلئے نماز پرھنے اور روزہ رکھنے کیوجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کور نور کا لباس پہنائیں گے

ان کے جسم حیران کردینے والے ہوں گے گورے رنگ والی ہونگی سبز لباس والی ہونگی پیلے زیور والی ہونگی ان کی خوشبو کی انگیٹھیاں موتی کی ہونگی ان کی کنگھیاں سونے کی ہونگی یہ ترانہ کہیں گی ۔ الا نحن الخالدات فلا نموت ابداً الا ونحن الناعمات فلا نباسُ ابدا الا ونحن المقیمات فلانظعن ابداً الاونحن الراضیات فلا نسخطُ ابداً طوبی لمن کنا لہ وکان لنا ۔سن لوہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی نہیں مریں گے ہم نعمتوں میں پلنے والی ہیں کبھی خستہ حال نہ ہونگی سن لو ہم جنت ہی میں رہیں گی کبھی نکالی نہ جائیں گی سن لو ہم اپنے خاوندوں پر راضی رہنے والی ہیں

کبھی ناراض نہ ہونگی سعادت ہے اس شخص کیلئے جس کیلئے ہم ہیں اور وہ ہمارے لیے ہیں ۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ ایک عورت کے بعد دیگرے دو خاوندوں سے یا تین سے یا چار سے دنیا میں شادی کرتی ہے اور م ر جاتی ہے پھر وہ جنت میں داخل ہوتی ہیں اور اس کے دنیا کے خاوند بھی اس کے ساتھ جنت میں داخل ہوتے ہیں ان میں سے اس عورت کا خاوند کون بنے گا آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو اختیار دیا جائیگا اور وہ ان خاوندوں میں سے زیادہ اچھے اخلاق والے کو منتخب کرے گی اور عض کرے گی اے رب یہ شخص شخص باقی خاوندوں زیادہ دنیا میں اچھے اخلاق والا تھا آپ اس سے میری شادی کردیں پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے ام سلمہ ؓ حسن اخلا ق دنیا اور آخرت دونوں کی خیر کو ساتھ لیے ہوئے ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *