جو مرد تم سے سچی محبت کرتا ہو گا وہ تم سے کبھی نہ کبھی دو باتیں ہر حال میں پوچھے گا۔۔؟پہلی بات ۔۔دوسری بات۔۔۔

کبھی کبھی بے حس ہونا پڑتا ہے دل پر پتھر نہ رکھو تو لوگ پاؤں رکھ جاتے ہیں۔ اوراتنی بے دردی سے کہ نہ انہیں خدا یاد رہتا ہے

۔ اور نہ اپنا انسان ہونا۔ منت میں بیٹا مانگتے تھے بڑھابے میں سنبھالا بیٹی نے۔ واسطے پڑیں تو کردار کھلتے ہیں ۔ باتوں سے توہر شخص پارسا ہے۔ دسکت کی قدر کیجیے ۔ یہ گھروں کوویران نہیں ہونے دیتی۔ لوٹ بھی آئیں تو پہلے جیسے کہاں رہتے ہیں ۔ میں نے بچھڑے ہوئے لوگوں پر سوچا بہت۔ جو لوگ کہتے ہیں ہمیں صرف فرق نہیں پڑتا ، وہ جھوٹ کہتے ہیں ۔

فرق ضرور پڑتا ہے۔ وہ منزلیں جو اپنے لیے سوچی ہوں وہاں پر کسی اور کو پہنچتے دیکھ کر وہ خواب جو اپنے لیے دیکھے ہوں ان کی تعبیر میں کوئی اور ہو ، جن راستوں پر کسی کے ساتھ چلنے کے خواب ہم نے دیکھے ہوں لیکن ان کی تعبیر میں ہماری جگہ کوئی اور ہو۔ جس کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے راتیں جاگ کر دعائیں کی ہوں اور وہ کسی کو بنا مانگے میسر آجائے تو فرق ضرور پڑتا ہے ۔دل چاہتا ہے کہ شکوہ کریں۔ لیکن تب ہم اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہوکربکھرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔ ایک لڑکی کبھی کبھی زندگی بے وجہ بے رنگ سی لگنے لگتی ہے۔

جسے آپ بلاوجہ اداسی بھی کہہ سکتے ہیں۔ اور یہ ایسی صورتحال ہوتی ہے۔ کہ ہمارے چہرے پر صاف نظر آتی ہے۔ ہمارے ارد گر د ہمارے کچھ قریبی لوگ اسکی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ، پوچھتے بھی ہیں ، مگر ہم خود اس کی وجہ نہیں جانتے ۔ میں ویسے تو تمہیں اب مس نہیں کرتی مگر ، میں اپنی اس ہر بے سبب ادا سی کو تم سے منسوب کرتی ہوں۔ یہ اعتراف بے حد تکلیف دہ تھا۔ کہ ایسے شخص کی محبت میں گرفتار ہونا جس کا حصول آپ کے لیے ناممکن ہو۔ بے حد تکلیف دہ ہوتا ہے۔

خا ص طورپر تب جب آپ نے اس محبت سے بچنے کے لیے اپنی پوری کوشش کی ہو۔ ابھی تو مات باقی ہے۔ اندھا دنیا کو دیکھنے کی ، بہر ہ سننے کی ، لنگڑہ چلنے اور گونگا بولنے کی تمنا کرتا ہے ۔ اور تم دیکھتے ، سنتے ، چلتے اور بولتے ہو تو کونسی چیز تمہیں اپنے رب کا شکر ادا کرنے سے روکتی ہے ؟ اللہ کے بٹے احسانوں میں سے ایک احسان یہ بھی ہے کہ اس نےتمہیں مکمل بنایا تو پھر کیوں نہیں اللہ کا شکر ادا رکرتے ۔ جو مرد تم سے سچی محبت کرتا ہوگا وہ تم سے دو باتیں کبھی نہ کبھی لازمی پوچھے گا، پہلی بات میری تمہاری زندگی میں کتنی اہمیت ہے ، دوسری یہ کہ تمہاری زندگی میں میرے علاوہ کوئی اور تو نہیں تھا۔ عزت اور ذلت اس مالک دوجہاں کے ہاتھ میں ہے کوئی بھی انسان لاکھ چاہنے کے باوجود بھی کسی کی عزت میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں لاسکتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *