124

ایک حیران کن معلوماتی رپورٹ

آج ہم آپ کو ہوائی جہازوں کے متعلق ایک ایسی معلوماتی رپورٹ دینے جا رہے ہیں جو بہت کم بلکہ شاید چند ہی لوگوں کو پتہ ہو گی ، سوال یہ ہے کہ مسافر طیاروں کا ہزاروں لیٹر فیول کہاں رکھا جاتا ہے ؟ آپ کو بتاتے چلیں کہ

ہوائی جہازوں کا فیول انکے پروں (ونگز) میں سٹور کیا جاتا ہے ، اور اسکی کچھ خاص وجوہات ہیں ۔ (1) وزن اور توازن ۔۔۔۔ پرواز کے دوران ہوائی جہاز کا توازن قائم رکھنے کے لیے ائیرکرافٹ کمپنیاں اس بات کو بہتر سمجھتی ہیں کہ ہوائی جہاز کا فیول اسکے پروں میں برابر اسٹور کردیا جائے ۔ چونکہ پرواز کے کے لیے ہوائی جہاز کے پر اہم ترین ہوتے ہیں ، اور ہوائی جہاز کے اندرونی حصے میں سینکڑوں مسافروں اور انکے سامان کا وزن بھی ہوتا ہے ، اتنا بڑا حجم رکھنے والے جہاز خود کافی وزنی ہوتا ہے ، اس لیے ہزاروں لیٹر وزنی فیول کو بھی اگر اسی یعنی درمیانی حصے میں رکھا جاتا تو شاید جہاز اڑ بھی نہ سکے ، اگر ایسا ہو بھی جائے تو دوران پرواز ہوائی جہاز کاتوازن قائم رکھنے میں پائلٹس کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ۔
(2) ہوائی جہاز کے اندر مسافروں کے بیٹھنے کی جگہوں اور کارگو والے حصوں اور پائلٹس و کریو کے کیبنز کے بعد ایسی کوئی جگہ نہیں بچتی جہاں کئی ٹن وزن رکھنے والے فیول کو رکھا جائے ، ہوائی جہاز کے ونگز یعنی پروں کا سٹرکچر کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ یہ اندر سے خالی ہوتے ہیں ، لمبائی میں ہونے کی وجہ سے انکے اندر موجود خلا کے ائیر ٹائٹ اور سیلڈ ہونے کی وجہ سے بھی فیول کو وہاں سٹور کیا جاتا ہے ، ہوائی جہاز کے دونوں پروں میں لمبائی کے رخ خالی جگہ کے اندر سٹور فیول ہوائی جہاز
کا بہترین توازن قائم رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ (3) پرواز کی ابتدا یعنی ٹیک آف کے وقت جہاز کا پورا وزن اسکے درمیانی حصے ، مسافروں اور کارگو والے حصے میں ہوتا ہے ، اور پروں یعنی ونگز میں اگر فیول سٹور نہ کیا جاتا تو انکے خالی ہونے کی وجہ سے یہ خدشہ ہوتا ہے وہ انتہائی وزنی مسافر طیارے کو اٹھانے کے قابل ہی نہ رہتے یا پرواز کے وقت ٹوٹ جاتے ۔ ہوائی جہاز کے درمیانی سٹرکچر اور پروں والے حصے کے درمیان طاقت اور وزن کا توازن قائم رکھنے اور ہوائی جہاز کو ٹیک آف میں سہولت دینے کے لیے سب سے بہتر یہ سمجھا گیا کہ فیول کو پروں میں سٹور کرنے کا انتظام کیا جائے ، یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ جہاز کے انجن میں جو فیول استعمال ہو رہا ہوتا ہے وہ جہاز کے اندر موجود ایک فیول ٹینک سے ہی آتا ہے ،
یعنی ایسی بات نہیں کہ ہوائی جہاز کے اندر پروں کے علاوہ فیول رکھنے کی جگہ سرے سے نہیں ہوتی ، پروں میں موجود فیول کی باری جہاز کے اندر موجود ایک ٹینک میں موجود فیول استعمال ہونے کے بعد ہی آتی ہے ۔ یعنی مسافر طیارے میں عام طور پر تین فیول ٹینک ہوتے ہیں ، دو پروں یا ونگز میں اور ایک ہوائی جہاز کے اندرونی اور درمیانی حصے میں ۔۔۔ اسکے علاوہ مسافر بردار جہازوں کے فیول ٹینک ونگز میں ہونے کی ایک وجہ اندرونی فیول ٹینک کو گرم ہونے سے بچا نا بھی ہے ، انجن کے فیول پمپ اگر مسلسل کام کرتے گرم ہو جائیں تو خود بخود بند ہو جاتے ہیں یا بند کردیے جاتے ہیں ، ایسی صورت میں پروں میں موجود فیول کام آتا ہے اور اندرونی ٹینک کے ٹمپریچر کو نارمل ہونے کے لیے وقت مل جاتا ہے ۔ امید ہے کہ اس رپورٹ سے آپ کی معلومات میں ضرور اضافہ ہوا ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں