27

آپ سے تو یہ توقع نہ تھی : امت مسلمہ کے خواب چکنا چور کرنے والے اسرائیل متحدہ عرب امارات..

اسرائیل امارات تعلقات کی بحالی پر امریکا کے بعدچین ، یورپ اور اقوام متحدہ مثبت نتائج کے منتظر، اسرائیلی وزیراعظم نے بحرین، اومان، مصرکی جانب سے امارات اسرائیل تعلقات کے خیرمقدم پراظہار تشکرکیا ہے۔تفصیلات کےمطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نےمتحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کی’’حمایت‘‘ کرنے پر مصر ، اومان اور بحرین کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہاکہ میں مصر کے صدر السیسی اور اومان اور بحرین کی حکومتوں کا اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین تاریخی امن معاہدے کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔یہ معاہدہ دائرہ امن کو بڑھا رہا ہے اور پورے خطے کے لئے اچھا ہوگا۔ادھرفرانس نے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے پر قبضے کے منصوبوں کی معطلی پر زور دیا۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے متحدہ عرب امارات کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے،

انہوں نے کہاکہ میں متحدہ عرب امارات کےجرأت مندانہ فیصلے اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام میں شراکت کی خواہش کو سراہتا ہوں۔فرانسیسی وزیر خارجہ ین یاس لی ڈریان نے ایک بیان میں کہاہے’’ اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی علاقوں کاالحاق معطل کرنے کے لئے اس فریم ورک کے تحت لیا گیا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے ، یہ ایک حتمی اقدام بننا چاہئے۔جرمنی نے معاہدے کا خیرمقدم کیا ، جرمن وزیر خارجہ ہایکو ماز نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو معمول پر لانا ’’خطے میں امن کے لئے ایک اہم شراکت ہے۔

‘‘چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا کہ چین کو ایسے اقدامات دیکھ کر خوشی ہوئی جو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مابین تناؤ کو کم کرنے اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے میں مدد فراہم کررہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ متعلقہ فریق فلسطینیوں کے مسئلے کومذاکرات کی راہ پر لانے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں گے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مابین معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے

جس کے تحت اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو اپنے ساتھ ملانے کے منصوبوں کو معطل کردے گا۔ان کے ترجمان اسٹیفن ڈوجرک نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان کے مشترکہ بیان کے تحت اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو اپنے ساتھ ضم کرنے کے منصوبوں کو معطل کردیاگیا ہے اور سیکرٹری جنرل بھی اس چیز کا مستقل طور پر مطالبہ کرتے آئے ہیں۔سیکریٹری جنرل اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس سے اسرائیلی اور فلسطینی رہنماں کے لئے بامقصد مذاکرات شروع کرنے کا موقع پیدا ہوگا

جس سے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں،بین الاقوامی قانون اور دو طرفہ معاہدوں کے مطابق دو ریاستوں پر مبنی حل حقیقت کی شکل اختیار کرے گا۔بیان میں کہا گیا کہ علاقوں کو اپنے ساتھ ضم کرنے سے مذاکرات کی تجدید کا راستہ بند ہوجائے گا اور ایک قابل عمل فلسطینی ریاست اور دو ریاستی حل کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔مشرق وسطیٰ میں امن پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ خطہ کوویڈ-19 اور بنیاد پرستی کے سنگین خطرات سے دوچار ہے، سیکریٹری جنرل تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت ، امن اور استحکام کے مزید راستوں کو کھولنے کے لئے کام کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں