Home / سیاست / وزارت بھی کسی کام نہ آئی : شاہ محمود قریشی ہار گئے ، جاوید ہاشمی جیت گئے ۔۔۔۔ ملتان سے ..

وزارت بھی کسی کام نہ آئی : شاہ محمود قریشی ہار گئے ، جاوید ہاشمی جیت گئے ۔۔۔۔ ملتان سے ..

میں یہ نہیں مانتا کہ مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے غلط فیصلوں سے خود کو سیاسی طور پر تنہا کر رکھا ہے، بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مخدوم جاوید ہاشمی کا جو سیاسی قد کاٹھ ہے، اسے کوئی سیاسی جماعت اپنے اندر سمو ہی نہیں سکتی ہاں یہ سچ ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی نے محمد نوازشریف سے سیاسی وفاداری نبھائی ہے۔نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بے وفائی کے دنوں میں بھی صرف جاوید ہاشمی کے دل میں نوازشریف کی قدر ہی رہی،

اور بات ہے کہ اس وفاداری کی قدر نہیں کی گئی جنوبی پنجاب کے لئے مخدوم جاوید ہاشمی کا دم غنیمت ہے، ان کی وجہ سے جنوبی پنجاب ایک بڑی سیاسی وراثت کا مالک ہے وگرنہ یہاں بونوں کا راج ہے، جو اپنے حق کے لئے بولتے ہوئے بھی تھرتھر کانپ رہے ہوتے ہیں آج کل پھر مخدوم جاوید ہاشمی پوری شدت سے گرج برس رہے ہیں اس بار ان کا موضوع سخن جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ سکریٹریٹ کے نام پر رچایا جانے والا ڈرامہ ہے۔

انہوں نے اس ڈرامے کے بعد واشگاف الفاظ میں جنوبی پنجاب کے عوام کو بتا دیا ہے کہ اگلے سو سال تک اب جنوبی پنجاب کے صوبہ بننے کا کوئی امکان نہیں وزیر اعظم عمران خان نے انتخابات میں کئے گئے دعوے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے علیحدہ سیکرٹریٹ کا بھونڈا مذاق کیا ہے دوسرے لفظوں میں ان کا یہ کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک کو ختم کرنے کے لئے چھرا گھونپا ہے۔ اب اس مطالبے پر کبھی اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکے گا

کیونکہ سیکرٹریٹ کی بہاول پور اور ملتان میں تقسیم کر کے اس مطالبے کو بھی تقسیم کر دیا گیا ہے۔کیا حالات پیدا ہوئے ہیں کہ مخدوم جاوید ہاشمی کے دیرینہ حریف شاہ محمود قریشی اب عوام میں جانے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور مخدوم جاوید ہاشمی میدان کے بیچ کھڑے للکار رہے ہیں۔ سیاسی آدمی وہی زندہ رہتا ہے جو عوام کا سامنا کرنے کی جرأت رکھتا ہو، مخدوم جاوید ہاشمی میں یہ ہمت و صلاحیت ہمیشہ موجود رہی ہے۔ وہ اس وقت بھی خم ڈھونک کے عوام کے درمیان آ گئے تھے، جب انہوں نے عین عروج پر تحریک انصاف کو خیر باد کہا تھا۔

اگرچہ انہیں تحریک انصاف کی طرف سے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، پریس کلب ملتان کے باہر انہیں دھکے اور نفرت انگیز خطاب بھی دیئے گئے مگر وہ اپنی دھن کے پکے ہیں اس وقت انہوں نے جو انکشافات کئے تھے، دیوانے کی بڑ نظر آتے تھے۔ تاہم آگے چل کر وہ سچ ثابت ہوئے۔ عدلیہ نے بھی راستہ صاف کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اور باقی معاملات بھی عمران خان کے حق میں خود بخود ہموار ہوتے چلے گئے۔ مخدوم جاوید ہاشمی باغی سے داغی بن گئے لیکن کیا وہی جو ان کے من میں آیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ تحریک انصاف سے نکلیں گے تو مسلم لیگ ن انہیں ہاتھوں ہاتھ نہیں لے گی، کیونکہ مسلم لیگ ن میں کئی بڑی شخصیات ان کے خلاف تھیں،

صرف نوازشریف کے دل میں ان کے لئے نرم گوشہ تھا، باقی سب ان کی مقبولیت اور سیاسی قد سے خوفزدہ تھے۔مخدوم جاوید ہاشمی کو تو اس وقت بھی مکھن میں سے بال کی طرح نکال دیا گیا تھا جب مشرف دور میں انتخابات کے بعد انہیں قائد حزبِ اختلاف بنانے کی بجائے قرعہ فال چودھری نثار علی خان کے نام نکلا، حالانکہ مشکل حالات میں مخدوم جاوید ہاشمی نے پارٹی کو زندہ رکھا تھا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی تھیں میں نے ایک بار کالم لکھا تھا کہ مخدوم جاوید ہاشمی ایک کٹی پتنگ ہے۔

اس پر مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک طویل فون کر کے مجھے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ اب اپنے اصول مؤقف کی وجہ سے کسی کیلئے قابلِ قبول نہیں رہے۔ یہ میری شکست نہیں فتح ہے کہ میں اب اس جھوٹی سیاست اور جمہوریت کے لئے خطرے کی علامت بن گیا ہوں۔ یہ ان کا جملہ تھا اور اس جملے میں انہوں نے بہت کچھ کہہ دیا تھا۔ کیونکہ ایسی بات کہنے کے لئے ایک جرأت کے لئے جرأت مندانہ سیاسی کردار چاہئے، مصلحتوں سے عاری شخص ہی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ ملک میں جعلی جمہوریت ہے اور اصل حکمرانی اسٹیبلشمنٹ کی ہے۔

پچھلے دنوں انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقتدر قوتیں ملک پر رحم کریں اور یہ لولی لنگڑی جمہوریت تو کم از کم چلنے دیں۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ اب عمران خان کو نکال کر کسی دوسرے کٹھ پتلی کو لانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ حالانکہ اصولی طور پر تو مخدوم جاوید ہاشمی کو خوش ہونا چاہئے تھا اور انہیں دوسرے اپوزیشن لیڈروں کی طرح یہ کہنا چاہئے تھا کہ عمران خان کو نکال باہر کیا جائے، وہ مستعفی ہو جائیں، ملک کی جان چھوڑ دیں، مگر انہوں نے اس کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے کہ اب یہ کھیل نہ کھیلا جائے۔ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے،

تاکہ عوام کو پانچ سال بعد فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ ظاہر ہے ایسی باتوں سے وہ کسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں رہتے۔ اپوزیشن بھی انہیں اپنا دشمن سمجھنے لگتی ہے کہ حکومت کو پانچ سال دینے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ ہم تو اسے ایک دن دینے کو تیار نہیں اب مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک اور میدان سنبھال لیا ہے۔ یہ میدان ہے جنوبی پنجاب صوبے کا اس وقت جبکہ ہر طرف ایک مایوسی ہے اور وہ قوم پرست سیاسی تنظمیں بھی حیرت سے سارا منظر دیکھ رہی ہیں،

ان کے سامنے ایک اچھی بھلی تحریک کا حشر نشر ہو گیا ہے، لوگ صوبے کو بھول کر اس بحث میں الجھ گئے ہیں کہ علیحدہ سکریٹریٹ کا صدر مقام بہاولپور میں ہونا چاہئے یا ملتان میں، اب ملتان سے ایک ہی آواز اٹھ رہی ہے کہ علیحدہ سیکرٹریٹ ملتان میں بناؤ یا سیکریٹریٹ کا ڈرامہ ہی ختم کرو، تو صرف یہی ایک ایسے لیڈر ہیں جو اس بحث میں الجھے بغیر کہ سیکرٹریٹ کہاں بننا چاہئے، اس نکتے کو اٹھا رہے ہیں کہ یہ سارا کھیل جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے کھیلا جا رہا ہے اس کا مقصد عوام کو کوئی ریلیف دینا ہے اور نہ جنوبی پنجاب کو اس کے حقوق لوٹانا،

اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ پچھلے ستر برسوں سے علیحدہ صوبے کی جو تحریک چل رہی ہے اسے قصہ پارینہ بنایا جائے۔ انہوں نے تحریک انصاف کی قومی اور مقامی قیادت پر سخت تنقید کی، ان کا کہنا تھا یہ لوگ سازش کے آلہئ کار بن گئے۔ جو حکومت میرٹ کے مطابق یہ فیصلہ بھی نہ کر سکے کہ ملتان میں سیکریٹریٹ کا صدر مقام بننا چاہئے اس سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ وزیر خارجہ اور مخدوم جاوید ہاشمی کے بڑے سیاسی حریف مخدوم شاہ محمود قریشی اور ان کے حامی مسلسل یہ کریڈٹ لے رہے ہیں

کہ انہوں نے جنوبی پنجاب سکریٹریٹ بنانے میں بالآخر کامیابی حاصل کر لی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بہاولپور کو سیکرٹریٹ دینے کے بعد ان کا یہ ڈس کریڈٹ بن گیا ہے۔ خود تحریک انصاف کے پارٹی عہدیدار کھل کر شاہ محمود قریشی اور ملتان کے ارکانِ اسمبلی پر تنقید کر رہے ہیں کہ انہوں نے ملتان کو جنوبی پنجاب کا ایک مضافاتی شہر بنا دیا ہے، حالانکہ ملتان کی حیثیت ہمیشہ ایک مرکزی شہر کی رہی ہے۔ ایک ہاری ہوئی سیاسی جنگ کو فتح بنا کے کیسے پیش کیا جا سکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے قرنطینہ میں ہونے کے باوجود یہ ٹویٹ کیا کہ ملتان کو نظر انداز کرنے کی بات درست نہیں،

ایڈیشنل چیف سیکرٹری تین دن ملتان میں بیٹھیں گے، ایک بڑے سیاسی رہنما کو بعض اوقات اپنی ساکھ بچانے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کا اندازہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ ٹویٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ اس بات کو اپنا کریڈٹ بنا کر پیش کر رہے ہیں کہ ایڈیشنل چیف سکریٹری ملتان میں تین دن بیٹھیں گے البتہ سیکریٹریٹ بہاول پور میں ہی کام کرے گا۔

ان حالات میں جنوبی پنجاب کے معاملے پر مخدوم جاوید ہاشمی کا خم ٹھونک کے میدان میں آنا، وقت کی ضرورت ہے، وہ سپوتِ ملتان ہونے کے ناطے ایک نئی جنگ کی تیاری کر چکے ہیں اور لگتا یہی ہے کہ اس بار پورا ملتان اس لڑائی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔

Check Also

اجلاس کا احوال

Post Views: 57 بالآخر حکومت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں ’’میوچل لیگل …

(ن) لیگ کے 50 سے زائد اراکین تحریک انصاف میں شامل ہونے کو تیار، لیگی قیادت کی نیندیں اُڑ گئیں

Post Views: 180 صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ احسن اقبال …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *