45

یار آپ کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ 2003 میں بیرون ملک سے آنیوالے ایک شخص نے ..

نامور کالم نگار محمد اسلم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ کالم نگار آپ کو چینی سے جڑی بھولی بسر ی پاناما کہانی سناناچاہتاہے۔ کہتے ہیں کہ جنرل مشرف کے دورعروج پر باسل سوئٹزرلینڈسے ایک معاشی غارت گر اسلام آباد پہنچا اور اس نے دعوی کیا کہ

وہ شریف خاندان کی کالی دولت کی بیرون ملک سرمایہ کاری کا مشیررہا ہے اسے چھپائے گئے 300ملین ڈالر کی تمام تفصیلات کا علم ہے اگر حکومت پاکستان آمادہ ہوجائے تو یہ رقم برآمدکرائی جاسکتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس رقم کی دوبارہ سرمایہ کاری اس کے ذریعے کی جائے جنرل مشرف کے کورگروپ نے اسے نوسربازاورفراڈیاکہہ کر گھاس نہ ڈالی اوروہ شخص واپس سوئیٹزرلینڈ چلاگیا۔اپنی کمشن کی رقم ڈوبنے پر تلملاتاوہ “سوئس ماہر سرمایہ کاری”کسی نہ کسی طرح براہ راست جنرل مشرف تک رسائی حاصل کرلیتا ہے دوبارہ اسلام آباد پہنچتاہے تو اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف،جنرل حامد جاوید مرحوم اسے جنرل مشرف سے ملواتے ہیں لیکن غیرسنجیدہ اورنوسربازقراردیتے ہیں جنرل مشرف بڑے رسان لہجے میں کہتے ہیں کہ اس کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں اس لیے گورنر سٹیٹ بنک کوبلا کر معاملہ ان کے سپرد کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے اور جناب عشرت حسین منظرنامے میں داخل ہوتے ہیں یہ وائٹ کالر کرائم کے ماہر عامر عزیز سے ابتدائی گفتگوکرتے ہیں جو انہیں 6ہفتوں میں تحقیقات کرکے بتاتے ہیں کہ “سوئس ماہر”بالکل درست کہتا ہے اوراس طرح جناب عشرت حسین معالہ ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی سفارش کرتے ہیں اورسٹیج پر واجد ضیا نمودار ہوتے ہیں ۔ جنرل مشرف کو وکلا تحریک کے نتیجے میں گھر جانا پڑتا ہے 2013 کے عام انتخابات کے بعد نوازشریف تیسری مرتبہ طاقتور وزیراعظم بن نمودار ہوتے ہیں اور تقدیر مسکراتی ہے اور پھر پاناما دھماکہ ہوتا ہے قدرت کاملہ ایسے اسباب پیداکرتی ہے کہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں