40

کعبہ شریف کا محاصرہ۔۔۔!!41سال قبل کیا واقعہ پیش آیا تھا؟ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تفصیلات بتا دیں

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ وہ سعودی معاشرے کو ویسا بنانا چاہتے ہیں جیسا وہ 1979 سے پہلے تھا۔ جس سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ سنہ 1979 میں ایسا کیا ہوا تھا؟سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حال ہی میں

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ‘ہم ملک میں اسلام کو اس کی اصل شکل میں واپس لے جانا چاہتے ہیں۔ اور سعودی معاشرے کو ویسا بنانا چاہتے ہیں جیسا وہ 1979 سے پہلے تھا۔اس حوالے سے کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھا کہ 1979 میں ایسا کیا ہوا تھا جس نے سعودی معاشرے کی شکل تبدیل کر دی تھی؟ 1979 کو ویسے تاریخ میں اور واقعات کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے لیکن سعودی عرب میں یہ سال مکہ میں خانہ کعبہ پر کیے جانے والے اٹیک اور دو ہفتوں پر محیط محاصرے کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور تقریباً ایک لاکھ لوگ مسجد الحرام میں محصور ہو گئے تھے۔ 41 برس قبل چار دسمبر کو سعودی حکومت نے فرانسیسی کمانڈوز، پاکستانی فوج اور سعودی فوج کی مدد سے لڑائی کا خاتمہ کیا جس کا آغاز 20 نومبر کو ہوا تھا جب 400 سے 500 شر پسندوں نے یکم محرم 1400 ہجری کو نئے اسلامی سال کے آغاز پر خانہ کعبہ پر اٹیک کر کے ایک لاکھ عبادت گزاروں کو مسجد میں محصور کر کے خود انتظام سنبھال لیا تھا۔ اٹیک کرنے والوں کی قیادت کرنے والے جہيمان بن محمد بن سيف العتيبی کا تعلق نجد کے ایک بدو قبیلے سے تھا، اور وہ سعودی عرب کے معروف عالم دین عبدالعزیز بن باز کی تعلیمات سے نہایت متاثر تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں