50

باراک اوباما ظالم چال گئے۔۔!! سابق صدر نے بھارت کی پاکستان سے دشمنی کو ایکسپوز کردیا، اصل وجہ کا انکشاف

سابق امریکی صدر براک اوباما کی کتاب “سرزمینِ موعود” (A Promised Land) اب عام دستیاب ہے اور اندازہ ہے کہ یہ نئے عالمی ریکارڈ قائم کرے گی۔ اس کتاب میں ہماری دلچسپی کا سامان اسی حصے میں ہے کہ جس میں پاکستان اور بھارت کا ذکر ہے۔

ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستان کی جانب سے سختِ ردعمل کی توقع لیکن بہت ہی حیران کُن انداز میں مبارک باد ملنے کی خبریں تو عام ہو گئی ہیں لیکن بھارت کے حوالے سے اوباما نے جو کچھ لکھا ہے وہ بھی کم حیرت انگیز نہیں ہے۔ جن میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ بھارت میں قومی اتحاد اور یکجہتی کا آسان ترین راستہ ‘پاکستان دشمنی’ سے ہو کر گزرتا ہے۔ اوباما نے نومبر 2010ء میں اپنے دورۂ بھارت میں اُس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے اوباما لکھتے ہیں کہ تب من موہن نے مجھے کہا تھا کہ “ملک میں بڑھتے ہوئے مسلمان مخالف رحجان کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔” تب بی جے پی حزبِ اختلاف کا حصہ تھی۔ 17 نومبر کو دنیا بھر میں پیش کی جانے والی کتاب میں اوباما نے من موہن سنگھ کو “ایک دھیمی شخصیت کا حامل، نرم مزاج ماہرِ معیشت” قرار دیا ہے، جس نے اپنے ملک کی معیشت کو جدت کی راہ پر گامزن کیا۔ اوباما مزید لکھتے ہیں کہ من موہن نے کہا تھا کہ “مذہبی اور نسلی عصبیت کی پکار سیاست دانوں کے لیے زہر آلود ہے، خاص طور پر بھارت جیسے ملک میں کہ جو غربت، عدم مساوات، تشدد اور بے جا قوم پرستی کے شکنجے میں ہے۔”

اوباما لکھتے ہیں کہ “بہت سے بھارتی پاکستان کے مقابلے میں اپنے جوہری ہتھیاروں پر بڑا فخر کرتے ہیں، اور اس حقیقت سے بالکل بے پروا ہیں کہ ایک معمولی سی غلطی کسی بھی فریق کو برباد کر سکتی ہے۔” “تشدد، چاہے علانیہ ہو یا غیر علانیہ، بھارتی زندگی کا ایسا حصہ ہے جو اندر تک سرایت کر چکا ہے۔ پاکستان کے خلاف دشمنی کا اظہار قومی اتحاد و یکجہتی کا مختصر ترین راستہ ہے،” اوباما نے لکھا، “بھارت کی زیادہ تر سیاست مذہب، قبیلے اور ذات کے گرد گھومتی ہے۔” البتہ اوباما نے تسلیم کیا کہ “کئی پہلوؤں سے جدید بھارت کی داستان کو کامیاب سمجھنا چاہیے، کہ جو حکومتوں میں بارہا تبدیلیوں، سیاسی جماعتوں میں سخت باہمی عداوت، علیحدگی پسندوں کی کئی مسلح تحریکوں اور بدعنوانی کے اسکینڈلز میں بھی بچ گیا ہے۔” لیکن “اپنی تمام معاشی ترقی کے باوجود بھارت ایک منتشر اور مفلس ملک ہے، جو مذہب اور ذات کی بنیاد پر باہم تقسیم ہے، بدعنوان مقامی عہدیداروں اور بادشاہ گروں کے اشاروں پر چلنے پر مجبور، مقامی دفتر شاہی کے ہاتھوں لاچار کہ جو تبدیلی کے خلاف سخت مزاحم ہے۔” کتاب کا اختتام 2011ء میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی حملے کے بیان سے ہوتا ہے، اس لیے اس میں موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے باوجود اوباما لکھتے ہیں کہ تشدد، لالچ، بدعنوانی، قوم پرستی، نسل پرستی اور مذہبی عدم برداشت کسی بھی جمہوریت کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔

“جو تشدد پر یقین رکھتے ہیں، کہیں بھی ہوں موقع کے منتظر ہوتے ہیں کہ جیسے ہی شرحِ نمو جمود کا شکار ہو یا اعداد و شمار میں کچھ تبدیلی آئے یا کوئی کرشماتی رہنما ملے جو عوام کے خوف اور ناراضگی کے رحجان کا فائدہ اٹھائے اور یہ سر اٹھانے کے لیے تیار ہو جائیں۔” اوباما نے من موہن سنگھ کے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچنے کو بھی سراہا کیونکہ وہ ایک “مظلوم سکھ برادری سے تعلق” رکھتے تھے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ “بھارت میرے لیے ہمیشہ ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ اس کا بہت بڑا ہونا ہو، دنیا کی کُل آبادی کا تقریباً چھٹا حصہ یہاں رہتا ہے، تقریباً دو ہزار مختلف نسلی گروہ اور سات ہزار سے زیادہ بولیاں بولنے والے بھی یہیں ہیں۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر جس نے مجھے مسحور کیا، وہ مہاتما گاندھی تھے۔ میری سوچ پر ابراہم لنکن، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور نیلسن منڈیلا کے ساتھ ساتھ گاندھی جی کا بھی بہت گہرا اثر ہے۔” انہوں نے کتاب میں اپنے کالج کے زمانے کے بھارتی اور پاکستانی دوستوں کا بھی ذکر کیا کہ جنہوں نے “مجھے دال پکانا سکھایا اور بالی ووڈ فلموں کے بارے میں بتایا” اور یوں میری بھارت میں دلچسپی بڑھی۔ لیکن انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ “دنیا میں دوسری سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ملک بھارت کو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ ملک بھر میں کروڑوں افراد گندگی و غلاظت میں رہتے ہیں، گرم علاقوں کے دیہات میں یا کچی آبادیوں کی بھول بھلیوں میں، جبکہ اسی دوران ملک صنعت کے بڑے نام ایک ایسا طرزِ زندگی رکھتے ہیں کہ ماضی کے راجے اور مغل تک شرما جائیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں