64

مہوش حیات اپنی کس چیز سے مداحوں کو حیران کرتی ہیں ؟ فلم ساز و ہدایت کار ندیم بیگ کا ایسا انکشاف کہ پاکستانی ہکا بکا رہ گئے

اسلام آباد فلم ساز و ہدایت کار ندیم بیگ نے مبہم انداز میں رواں برس اگست میں ریلیز ہونے والی پاکستانی ویب سیریز ’چڑیلز‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ویب سیریز میں تشدد و سفاکی دکھانا غیر ضروری تھا۔ ڈان آئیکون سے بات کرتے ہوئے ندیم بیگ کا کہنا تھا کہ جس طرح ویب سیریز ’چڑیلز‘ کا کلائمکس دکھایا گیا وہ ان کینظر میں درست نہیں تھا۔ ندیم بیگ نے چڑیلز میں تشدد، نامناسب رویوں،
کرداروں کی سفاکی، شراب نوشی اور بولڈ مناظر دکھانے کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ایسا محسوس ہوا کہ چڑیلز ایک تھرلر ایکشن فلم ہے۔ فلم ساز کے مطابق چڑیلز میں منشیات کے استعمال، بولڈ مناظر اور تشدد کو دکھانا ایسا ہی ہے، جیسے کسی بھی سنجیدہ فلم میں 4 آئٹم گانے شامل کرلیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خیال میں چڑیلز میں یہ سب کچھ دکھانا غیر اہم تھا، ایسے مناظر دکھانے سے ویب سیریز نے اپنی اہمیت گنوادی۔ چڑیلز کو رواں برس 11 اگست کو بھارتی اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیو پر ریلیز کیا گیا تھا اور رواں ماہ اکتوبر کے آغاز میں اسے پاکستان میں بند کردیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں 9 اکتوبر کو اسے دوبارہ پاکستان میں ریلیز کردیا گیا تھا۔’چڑیلز‘ کی کہانی شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جانے والی چار خواتین کے گرد گھومتی ہیں جو سیریز میں اپنی جیسی دوسری خواتین کی زندگی بچانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈالتی دکھائی دیتی ہیں۔ ویب سیریز میں چاروں خواتین کو گھریلو زندگی چھوڑ کر دھوکا دینے والے شوہروں کو بے نقاب کرتے دکھایا گیا ہے۔ ویب سیریز میں ثروت گیلانی نے سارہ، یاسرہ رضوی نے جگنو، نمرا بُچہ نے بتول اور مہربانو نے زبیدہ کا کردار ادا کیا ہے اور ویب سیریز میں ان چار مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ایک گینگ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ فلم ساز ندیم بیگ نے چڑیلز کے کلائمکس پر اعتراض کرنے سمیت دیگر مسائل پر بھی گفتگو کی اور یہ بھی واضح کیا کہ وہ ہمایوں سعید اور مہوش حیات کے ساتھ کیوں کام کرنا پسند کرتے ہیں؟ ندیم بیگ نے ہمایوں سعید کو ہر بار کاسٹ کرنے کے سوال پر بتایا کہ اگر وہ انہیں کاسٹ نہیں کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں