69

اب اُڑیں گے پُرزے! نواز شریف اور انکے بیانیے کا ساتھ دینے والوں کے ساتھ کیا کِیا جائے گا؟ فیصلہ ہوگیا

معروف صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت مفرور ہیں،انہیں علاج کے لیے باہر بھییجا گیا تھا۔لیکن نواز شریف نے وہاں جا کر پاک فوج اور اداروں پر حملہ کیا اور اب ان کا ذہنی علاج کرنے کا فیصلہ کر لیا
گیا ہے۔میرے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اب نواز شریف کو عدالت اور پاک فوج پر کسی قسم کے حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔جو لوگ انہیں سیاسی جلسوں میں بلاتے ہیں،ان سے تقریریں کرواتے ہیں اور سیاسی میٹنگ میں شریک کرتے ہیں وہ سب بھی جائیں گے۔وہ لوگ عہدوں سے بھی جائیں گے۔جب کہ الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ سے بھی جائیں گے۔ہر جگہ قانون ان کا پیچھا کرے گا۔نواز شریف کی ہاں میں ہاں ملانے والے دو درجن سینئر رہنماؤں کے خلاف قانون حرکت میں آنے والا ہے،ایک خواجہ صاحب ہیں جن کی مریم نواز سے دو تین بار لڑائی بھی ہوئی۔کچھ رہنما کسی بھی وقت پارٹی چھوڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایک صوبے میں ان کے تمام رہنما چھوڑ جائیں گے۔بہت سارے رہنما رضاکارانہ طور پر ن لیگ کے بیانیے سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت لندن میں موجود ہیں،ان کی سخت تقاریر کی وجہ سے حکومت انہیں واپس لانے کے لیے بھرپور کوشاں ہیں۔حکومت نواز شریف کو واپس لانے کے لیے خاصی متحرک دکھائی دے رہی ہے جب کہ وزیراعظم کی بھی پوری کوشش ہے کہ ہر صورت میں نواز شریف کو وطن واپس لایا جائے۔ خاص طور پر نواز شریف کی حالیہ تقاریر کے بعد حکومت انہیں واپس لانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہے۔ پاکستان نے برطانیہ سے نواز شریف کو پاکستان بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احتساب کا عمل بلاتفریق جاری رہے گا، اپوزیشن کو احساس ہوچکا ہے کہ این آر او نہیں ملے گا۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں اپنے کیسز سے توجہ ہٹانے کیلئے اداروں کو متنازع بنا رہی ہیں، لیکن حکومت اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں