67

وہ بچی جسے پہلے سے دنیا میں موجود اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے پیدا کیا گیا ۔۔بی بی سی کی ایک حیران کن رپورٹ

انڈیا کی پہلی ’سیویئر سبلنگ‘ کی کہانی بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے۔ مگر اس کہانی نے ایک ایسے ملک میں جہاں قوانین پہلے ہی کمزور ہیں، ایک ایسے بچے کی پیدائش میں، جسے اپنے بہن یا بھائی کے علاج یا زندگی بچانے کے لیے دنیا میں لایا گیا ہو،

نامور خاتون صحافی گیتا پانڈے بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔کاویا سولنکی اکتوبر سنہ 2018 میں پیدا ہوئی تھیں اور مارچ سنہ 2020 میں جب وہ صرف 18 ماہ کی تھیں، ان کی ہڈیوں کا گودا یا ’بون میرو‘ نکال کر ان کے سات برس کے بھائی ابھیجیت میں پیوند یا ٹرانسپلانٹ کر دیا گیا تھا۔ابھیجیت تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان میں ہیموگلوبن کی تعداد خطرناک حد تک کم تھی اور زندہ رہنے کے لیے انھیں بار بار خون کی منتقلی کی ضرورت پڑتی تھی۔ہر تین ہفتے میں انھیں 350 سے 400 ملی لیٹر خون کی ضرورت پڑتی تھی۔ انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے سب سے بڑے شہر احمد آباد سے فون پر بات کرتے ہوئے ان کے والد سہدیوسن سولنکی نے مجھے بتایا کہ ’چھ برس کی عمر تک ابھیجیت کے جسم میں 80 بار خون کی منتقلی ہو چکی تھی۔‘’ابھیجیت میری پہلی بیٹی کے بعد پیدا ہوئے۔ ہم سب بہت خوش تھے۔ وہ دس ماہ کے تھے جب ہمیں پتا چلا کہ انھیں تھیلیسیمیا ہے۔ ہم مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ وہ کمزور تھے، ان کا مدافعتی نظام بھی کمزور تھا اور وہ اکثر بیمار رہتے تھے۔‘وہ کہتے ہیں ’اور جب مجھے پتا چلا کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں تو میرا دکھ دگنا ہو گیا۔‘بہتر طور پر سمجھنے کے لیے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ کیا مسئلہ ہے، انھوں نے اس بیماری اور اس کے ممکنہ علاج کے بارے میں پڑھنا شروع کیا اور طبی ماہرین سے مشورے لینا شروع کر دیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں