44

یہ تو ہونا ہی تھا :پاکستان میں ہونیوالی بیرونی سرمایہ کاری میں پچھلے چند ماہ میں کتنی کمی آگئی اور اسکی وجہ کیا ہے ؟ جانیے

رواں مالی سال کےابتدائی دوماہ میں بیرونی سرمایہ کاری 21 فیصد جبکہ ایشیاء کی بہترین اسٹاک مارکیٹ سے بھی اسی عرصے کے دوران بیرونی سرمایہ کاری 310 فیصد کم ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق اگست میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 10 کروڑ 29 لاکھ ڈالر رہا، اگست میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ناروے

سے 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ہوئی ہے۔نیاپاکستان سرٹیفکیٹ کا آغاز ، ڈالر اور روپے میں سرمایہ کاری کی جاسکے گی۔مرکزی بینک کے مطابق اگست کے اعداد شامل کرلینے کے بعد رواں مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 21 کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے ابتدائی دومہینوں کے مقابلے 21 فیصد کم ہے۔دو ماہ میں ملکی نجی شعبے میں 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، نجی شعبے میں براہ راست سرمایہ کاری 22 کروڑ 67 لاکھ ڈالر رہی ، البتہ ملکی نجی شعبے میں اسٹاک مارکیٹ سے 7 کروڑ 63 لاکھ ڈالر کا انخلاء ہوا ہے۔ملکی سرکاری شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری تقریبا 16 فیصد کمی ہوکر 5 کروڑ 98 لاکھ ڈالر رہی۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کوشش کررہے ہیں کہ کم لوگوں کا آڈٹ ہو ،حکومت کا بنیادی فلسفہ ٹیکس جمع کرنا ہے اور ہمیں اچھے انداز میں بغیر ہراساں کیے ٹیکس جمع کرنا ہے،ایف بی آر اور کاروباری برادری کو مل کر چلنا ہوگا
صاحب حیثیت لوگ ٹیکس دیں گے تو دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑیگا۔نجی ٹی وی کے مطابق لاہور چیمبر میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے کہا کہ ایف بی آرٹیکس نظام میں شفافیت کے لیے کوشاں ہیں، ٹیکس کے نظام کو آٹو میٹک کیا جارہاہے اور آڈٹ کے نظام کو کمپیوٹرائز کیا جارہا ہے، سیلز ٹیکس میں 1.7 فیصد کا آڈٹ کیا جائیگا جب کہ کوشش کررہے ہیں کہ کم لوگوں کا آڈٹ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا بنیادی فلسفہ ٹیکس جمع کرنا ہے، ہم چاہتے ہیں ٹیکس اس انداز میں جمع کیا جائے کہ بزنس مین کے لیے بلاوجہ کی دقتیں نہ ہوں، ہمیں اچھے انداز میں بغیر ہراساں کیے ٹیکس جمع کرنا ہے، ماضی میں شکایتیں رہیں کہ ری فنڈز نہیں دیے جارہے ہیں مگر 240 ارب روپے کے ری فنڈز دیے گئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں دگنا ہیں، 2013 سے جن ٹیکس پیئرز کے ری فنڈز رکے ہوئے ہیں انہیں فوری ادا کیے جائیں گے۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ خام مال پر ٹیکسز صفر کیے گئے، مشکل حالات کے باوجو دہم نے صنعتوں کے لیے سبسڈیز برقرار رکھی، حکومت انڈسٹریز کو بجلی اور گیس پر سبسڈیز دے رہی ہے، قرضوں پر بھی سبسڈی دے رہے ہیں۔ حفیظ شیخ نے مزید کہا کہ بزنس کمیونٹی اور حکومت کو مل کر چلنا ہے، ہم ایسی پالیسیز بنائیں گے جس سے بزنس کمیونٹی کے لیے آسانیاں پیداہوں، معیشت کی بہتری کیلیے فوری اقدامات کیے گئے ہیں اور بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر اور کاروباری برادری کو مل کر چلنا ہوگا، ایف بی آر نے دو بڑے فیصلے کیے ہیں، ادارہ ٹیکسز کا نظام شفاف بنانا چاہتا ہے، ایف بی آر نے آڈٹ کا نظام خودکار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ٹیکس آڈٹ کو کسی افسر کے اختیار میں نہیں لا رہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ صاحب حیثیت لوگ ٹیکس دیں گے تو دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں