90

عالمی ماہرین کا خوفناک انکشاف،اب “سردی ، زکام اور کرونا وائرس ” کا موسم بن سکتا ہے

طاس لیے سردیوں میں زیادہ ہوتاہے کیونکہ لوگ زیادہ تر وقت بند جگہوں پر ایک دوسرے کے قریب گزارتے ہیں اور انسان کی قوت مدافعت بھی سردیوں کے دوران کمزور ہوتی ہے جب کہ زکام کا وائرس کم درجہ حرارت میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے دستیاب تازہ ترین معلومات بتاتی ہیں کہ یہ وائرس بھی زکام کے وائرس کی طرح ہی پھیلتا ہے

۔لبنان کی امریکن یونیورسٹی آف بیروت کے ڈاکٹر حسن زراکت کا کہنا ہے کہ “دستیاب معلومات کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کووڈ 19 ایک موسمی بیماری بن جائے گی۔”تاہم محققین کا خیال ہے کہ یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ہم اس وائرس کے خلاف مجموعی قوت مدافعت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو کہ وائرس سے متاثر ہو کر یا ویکسین کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر زراکت کہتے ہیں کہ کورونا وائرس ہر سال پھیلے گا اس لیے عوام کو اس وائرس کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا ہو گااور اس سے بچنے کے لیے ماسک پہننے، سماجی دوری، صفائی اور اجتماعات سے بچنا ہوگا۔اس لیے سردیوں میں زیادہ ہوتاہے کیونکہ لوگ زیادہ تر وقت بند جگہوں پر ایک دوسرے کے قریب گزارتے ہیں اور انسان کی قوت مدافعت بھی سردیوں کے دوران کمزور ہوتی ہے جب کہ زکام کا وائرس کم درجہ حرارت میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے دستیاب تازہ ترین معلومات بتاتی ہیں کہ یہ وائرس بھی زکام کے وائرس کی طرح ہی پھیلتا ہے۔لبنان کی امریکن یونیورسٹی آف بیروت کے ڈاکٹر حسن زراکت کا کہنا ہے کہ “دستیاب معلومات کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کووڈ 19 ایک موسمی بیماری بن جائے گی۔”تاہم محققین کا خیال ہے کہ یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ہم اس وائرس کے خلاف مجموعی قوت مدافعت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو کہ وائرس سے متاثر ہو کر یا ویکسین کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے.

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں