77

بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے کا وہ فائدہ جو آپ کو معلوم نہیں، مزید جانیئے

میرے دادا وزیرآباد میں رہائش پذیر تھے، میرے والد صاحب کا بچپن بھی وزیرآباد میں گزرا، یہ اُس زمانے کی بات ہے جب لوگوں میں محبت تھی، آپس میں رابطے اور تعلقات عزیز رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر تھے، خوشی غمی میں ایک دوسرے کے بے لوث کام آتے تھے۔ایسے ہی ایک فیملی سے آچھےمراسم تھے کہ وہ عزیزوں سے بھی بڑھ کر معلوم ہوتے تھے،

اُن کی بیٹی میری پھوپھو کی قریبی سہیلی تھیں اور ہم بھی انھیں پھوپھو ذنیرہ کہا کرتے تھے، بچپن میں کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ محض محلہ دار تھے۔ میرے پھوپھا جی ایئر فورس میں تھے، وہاں ان کے ساتھ ایک نوجوان آزاد صاحب تھے جو پھوپھا جی سے کافی جونئیر تھے، یہ نوجوان کافی خوش مزاج اور ہنس مکھ طبیعت کے تھے(ابھی بھی حیات ہیں)، ان کی شادی نہیں ہوئی تھی، پہو پھا جی نے انھیں کہا کہ تمھارا رشتہ کروا دیں۔۔وہ فوراً بولے کہ ضرور۔ پھوپھا جی کے ذہن میں پھوپھو ذنیرہ ہی تھیں لیکن ایک مسئلہ یہ ہوا کہ عمر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پھوپھو ذنیرہ آزاد صاحب سے عمر میں چھ سال بڑی تھیں، آزاد صاحب اٹھائیس سال اور پھوپھو ذنیرہ چونتیس سال کی تھیں۔۔آزاد صاحب صرف ظاہر کے خوش مزاج نہیں بلکہ دل کے بھی خوش مزاج تھے ، انہوں نے کہاکہ عمرکا کوئی مسئلہ نہیں بس والدہ ایک دفعہ مل لیں۔ کمال ظرف والے لوگ تھے، انہوں نے بھی اوکے کردیا اور یوں یہ رشتہ طے پاگیا، شادی بھی ہوگئی۔ اللہ نے دوبیٹوں سے بھی نوازا جو اپنے والدین کی طرح کمال کے خوش مزاج اور ہنس مُکھ ہوئے۔ بچپن میں ہمارے گھر اسلام آباد بھی آنا ہوا، میں نے آج تک اِتنا زندہ دل اور خوش باش جوڑا نہیں دیکھا اور آگے بیٹے بھی ویسے ہی ۔پھر انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کی شادی بھی محض بائیس سال کی عمر میں کردی اور جلد ہی دونوں دادا دادی بن گئے ۔ ذہن کے دریچوں میں یہ واقعہ بچپن سے رچا بسا ہوا ہے اور سچی بات کہیں تو ایک عجب سکون کی خوشبو لیے ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں