42

خواتین کو معاشرے میں باوقار بنانے کا فیصلہ ۔۔۔!!!حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

معاون خصوصی عثمان ڈار کا کہنا ہے کہ کامیاب جوان پروگرام کے پہلے مرحلے میں دس لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا، سو ارب کے کامیاب جوان پروگرام میں پچیس ارب خواتین کیلئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی عثمان ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کی

سیاسی بنیاد پرتقسیم نہیں کی جائے گی ، ماضی میں نوجوانوں کو وسائل تک رسائی نہ تھی، کاروبارمیں آسانی کیلئے ماضی کی حکومتوں نے کوئی اقدامات نہیں کئے، پی ٹی آئی حکومت نے آسان کاروبارکیلئے بے شمار اقدامات کئے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیرکوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا، 100ارب کے کامیاب جوان پروگرام میں 25ارب خواتین کیلئے ہیں۔عثمان ڈار نے کہا کہ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 10لاکھ نوجوانوں کوروزگارملےگا، حکومت نے مزید پانچ ارب روپے کے قرضوں کیلئے رقم کی منظوری دے دی ہے۔یاد رہے معاون خصوصی عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ پروگرام سے رقم حاصل کرنیوالے نوجوانوں نے کاروباری سرگرمیاں شروع کردیں، وزیراعظم چاہتےہیں نوجوانوں کوملکی تعمیروترقی میں شراکت داربنایاجائے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف قوانین متعین وقت میں منظور نہ ہوتے تو پاکستان بلیک لسٹ ہو جاتا،فیٹف کے حوالے سے اپوزیشن کے کچھ رہنما عوام کو گمراہ کررہے ہیں،اپوزیشن کو چاہیے کہ منی لانڈرنگ بل کے حوالے سے عوام کو سچ بتائیں۔نجی ٹی وی چینل “دنیا نیوز” کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی 30 ستمبر تک کی ڈیڈلائن سے متعلق تمام ضروری قانون سازی کر لی گئی ہے ،امید ہے پاکستان کو جلد گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا،فیٹف کی شرط ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں بغیر وارنٹ گرفتاری ہونی چاہیے، کئی ممالک میں ایسے ہی وارنٹ جاری ہوتے ہیں، اپوزیشن میں کچھ غیرت مند پاکستانی ہیں جو ملک کا مفاد مقدم رکھتے ہیں، ایف اے ٹی ایف کے قوانین متعین نہ ہوتے تو پاکستان بلیک لسٹ ہوجاتاتو اسے ”بنانا سٹیٹ “قراردے دیا جاتا۔ایک سوال کے جواب پر وفاقی وزیرقانون نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی 30ستمبر سے جڑی تمام شرائط پوری کر دی ہیں،ہمارے اقدامات کی جانچ کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔
انہوں نے اپوزیشن کے حوالے سے کہا کہ آج اہم ایشو پر اپوزیشن کا رویہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ،فیٹف کے حوالے سے اپوزیشن کے کچھ رہنما عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون پاکستان کے آئین کے خلاف نہیں ہوسکتا، اگر یہ کالا قانون ہے تو اپوزیشن کوئی بھی شق میں خود اسے خذف کروا دوں گا، اپوزیشن کو چاہیے کہ منی لانڈرنگ بل کے حوالے سے عوام کو سچ بتائیں۔وزیرقانون نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت ففتھ جنریشن وار میں پھنسا ہوا ہے،فوج کی بدنامی کے تدارک کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ، فوج کی بدنامی کے ازالے سے متعلق پرائیویٹ ممبر بل کے ذریعے قانون میں ترمیم لارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں