50

سکارف پہننے پرپابندی ،خواتین ٹیچرز نے قانونی جنگ جیت لی ،عدالت کاخواتین کے حق میں بڑافیصلہ

جرمن وفاقی عدالت کا یہ فیصلہ ایک مسلم خاتون کی طرف سے جاری طویل قانونی جنگ میں تازہ ترین پیش رفت ہے، جنہیں شہر کے سرکاری اسکول میں پڑھانے پر پابندی لگادی گئی تھی۔وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مذکورہ خاتون کے ساتھ ‘ان کے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا۔‘ عدالت کے اس فیصلے کے بعد بعض قانون سازوں نے برلن کے متنازع غیر جانبداری قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ ایک مسلم خاتون کے کیس میں دیا گیا ہے جنہیں شہر کے حکومتی اسکولوں میں ایک ٹیچر کے طورپر خدمات انجام دینے سے اس لیے روکدیا گیا تھا کہ وہ ہیڈ اسکارف استعمال کرتی ہیں۔معاملہ کیا تھا؟مذکورہ خاتون کو ملازمت کے لیے انٹرویو کے دوران کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ہیڈ اسکارف پہننا جاری رکھا تو انہیں برلن کے اسکولوں میں پڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے بعد وہ اپنا یہ کیس برلن برینڈن برگ میں نچلے لیبر کورٹ میں لے گئیں۔برلن کے غیر جانبداری قانون کے مطابق کسی بھی سرکاری ملازم کو مذہبی کپڑے یا علامات پہننے پر پابندی ہے اور اسی وجہ سے وہاں ٹیچروں کو بھی ہیڈ اسکارف پہننے کی اجازت نہیں ہے۔نچلی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ہیڈ اسکارف پہننے پر صرف اسی صورت میں پابندی عائد کی جاسکتی ہے جب اس بات کا ٹھوس ثبوت ہو کہ اس سے اسکول کا امن متاثر ہوسکتا ہے۔ نومبر 2018 میں دیے گئے فیصلے میں عدالت نے برلن کی ریاستی حکومت کویہ حکم بھی دیا تھا کہ مذکورہ خاتون کو معاوضہ کے طور پر 6098 ڈالر ادا کرے۔لیکن برلن برینڈن برگ لیبر کورٹ کے حکم کے خلاف برلن انتظامیہ کی طرف سے وکلاء نے غیرجانبداری قانون کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔جمعرات کے روز عدالت کا فیصلہ اس قانونی لڑائی کا آخری مرحلہ تھا جس میں وفاقی عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔دونوں عدالتوں نے وفاقی آئینی عدالت کی طرف سے 2015 میں دیے گئے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس کے مطابق
سرکاری اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پر عمومی پابندی غیر قانونی ہے۔وفاقی عدالت کے فیصلے پر اپناردعمل ظاہر کرتے ہوئے برلن کے سنیٹرڈرک بہرناڈ نے غیر جانبداری قانون میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا”متعلقہ خاتون کی آڑ میں غیر جانبداری قانون کے حوالے سے تصادم کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ایک کثیر مذہبی سماج میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی اپنے سر کے اندر کیا رکھتا ہے نا یہ کہ وہ اپنے سر پر کیا رکھتا ہے۔”امتیازی سلوک پر نگاہ رکھنے والے وفاقی دفتر کے سربراہ برنہارڈ فرینک نے بھی وفاقی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور غیر جابنداری قانون پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی تاکہ مستقبل میں کسی بھی طرح کے قانونی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں