70

طوفان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جس پہاڑ پر رکی ، اس جگہ آج بھی اس واقعہ کی کیا کیا نشانیاں موجود ہیں ؟

امکان یہی ہے کہ شاید آپ نے نخجوان کا نام سنا ہی نہ ہو۔ آرمینیا، ایران اور ترکی کے درمیان کوہ قاف سے پرے ایک پہاڑی علاقہ، یہ ایک خود مختار علاقہ ہے، جو اپنے وقت کے سویت یونین کی ایک دور دراز جنوبی خطے آذربائیجان کا ایک علاقہ ہے جہاں بہت ہی کم سیاح جاتے ہیں۔

نامور صحافی ڈیوڈ مک آرڈیل بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ خود مختار جمہوریہ، آذربائیجان سے جغرافیائی طور پر کٹا ہوا حصہ ہے (نخجوان اور آذربائیجان کے درمیان آرمینیا کی ایک 80 سے 130 کلو میٹر بڑی ایک پٹّی جو دنیا سے سب سے زیادہ بڑا خشکی سے گھرا ہوا بیرونی علاقہ جس کا جزیرہِ بالی کے برابر رقبہ، جو سنہرے گنبد والی مسجد کے ساتھ بحیرہِ اسود اور بحیرہِ کیسپین کے درمیان خشک پہاڑوں پر مشتمل ایک خطہ ہے۔ترکی، ایران اور آرمینیا میں گھرا ہو یہ علاقہ جو کہ اصل میں آذربائیجان کا علاقہ ہے۔ نخجوان دنیا کا سب سے بڑا خشک زمین میں گھرا ہوا ایک بیرون ملک خطہ ہےیہاں ایک بہت ہی بلند مزار ہے جہاں حضرتِ نوح مدفون ہیں، ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ بنا ہوا ہے جسے کرہِ ارض کے ایک معلوماتی پروگرام ‘لونلی پلانیٹ’ نے یوریشیا کا ‘ماچو پیچو’ قرار دیا ہے (ماچو پیچو اصل میں جنوبی امریکہ کی ‘انکا’ تہذیب کا پہاڑ کی چوٹی پر آباد ایک قدیمی شہر کا نام ہے)، دنیا کا صاف ترین دارالحکومت جہاں سرکاری ملازمین درخت لگاتے ہیں اور ہر ہفتےگلیاں صاف کرتے ہیں۔ ضرت نوح کا ایک مقبرہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پانچ مقامات میں سے ایک ہے، لیکن یہ بات آپ نخجوانی باشندوں سے مت کہیے گا کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ان کا وطن ‘ارض نوح’ ہے۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ لفظ ‘نخجوان’ آرمینائی زبان کے دو الفاظ کا ایک مرکب ہے جس کا مطلب ‘آبائی نسل کا خطہ’ بنتا ہے،

جبکہ کئی آذربائیجانی دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ قدیم فارسی زبان کے لفظ ‘نخ’ (نوح) اور ‘چوان’ (جگہ) سے بنا ہے۔مقامی روایت کے مطابق، جب طوفانِ نوح تھما تو حضرتِ نوح کی کشتی ایلاندغ نامی پہاڑ پر آکر ٹھہری تھی اور اس کشتی کے ٹھہرنے کی جگہ پر اس کے نشانات بھی بتائے جاتے ہیں۔ بہت ساری نجوانی باشندے آپ کو بتائیں گے کہ حضرت نوح اور ان کے ماننے والے اس مقام پر کئی دنوں تک ٹھہرے رہے، اور یہاں کے لوگ نوح کی آل اولاد سے ہیں۔ابراہیموو نے چند دنوں کے بعد مجھے بتایا کہ اس پہاڑ کی چوٹی پر جو ایک کٹا ہوا نشان نظر آرہا ہے یہ وہ جگہ ہے جب یہ پانی میں ڈوبی ہوئی تھی تو نوح کی کشتی اس سے ٹکرائی تھی۔ ایک دن جب میں اردوآباد کے ایک پارک میں بیٹھا ہوا تھا تو ایک زیادہ عمر کے بزرگ میرے پاس آئے، وہ جان چکے تھے کہ میں ایک غیر ملکی ہوں۔ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے سگریٹ سے اشارہ کرتے ہوئے وہ بولے ‘وہ اس پہاڑ کی چوٹی پر وہاں نوح کی کشتی آکر ٹھہری تھی۔’ایک لحاظ سے نخجوان حضرت نوح کا دوسرا نام ہے، لیکن ساڑھے سات ہزار برس پہلے وہکوہ الانداغ پر اترے تھے (بعض لوگوں کے مطابق، اس کے ساتھ والے پہاڑ کوہِ ارارات پر اترے تھے، اس کا انحصار اس بات پر ہے آپ کس سے پوچھ رہے ہیں)، اور ان کی نسلیں ایرانیوں، عثمانیوں اور پھر روسیوں کے ادوار دیکھتی ہوئی آج مسلم اکثریتی آبادی کے طور پر وہاں موجود ہیں۔

چند دہائیاں پہلے سویت یونین کے زمانے کا آرمینیا سے ان کا ایک تنازع ماضی کی ‘سرد باقیات’ کے طور پر اب بھی موجود ہے۔سنہ 1988 میں ماسکو کا سویت یونین کی جمہوریاؤں پر سے کنٹرول کمزور ہو رہا تھا، نخجوان کے ہمسائے میں آذربائیجان کے جنوب مغرب میں نگورنو-قراباغ میں آرمینیا کی حمایت یافتہ آرمینائی اقلیت اور آذربائیجان کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔ اس سے پہلے کہ سنہ 1994 میں لڑائی بند ہوئی اس میں تقریباً تیس ہزار افراد جان سے گئے تھے۔ بہرحال اس لڑائی کے دوران قریبی آرمینائی آبادی نے سویت یونین اور آذربائیجان اور نخجوان کے درمیان ریل اور سڑک کے تمام رستے بند کردیے تھے۔ دریائے آرس پر ترکی اور ایران کی جانب بچ جانے دو پلوں کی وجہ سے نخجوان کے لوگ مکمل تباہی سے بچ پائے۔نخجوان کے اس محاصرے سے پیدا ہونے والی غذائی قلت کے نتیجے میں یہاں کے باشندوں میں خود انحصاری کی شدید ضرورت کا احساس رچ بس گیا۔ وہ اپنے ہمساؤں اور دریا پر پلوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے نخجوانی باشندوں نے اپنی غذا خود پیدا کرنی شروع کردی اور اپنی ضروریات کا سامان خود تیار کرنا شروع کردیا اور آذربائیجان میں سنہ 2005 کے تیل کی دریافت سے پیدا ہونے والی ترقی کے بعد سے، باکو نے اس علاقے میں زیادہ سرمایہ کاری کی جس سے اس خطے میں قومی سطح پر خود انحصاری کا جذبہ اور زیادہ گہرا ہوا جو کہ پائیدار ترقی کے مطالعے کے لیے ایک زبردست مثال ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں