48

عوام کی مشکلات کم نہ ہوئیں!! اس ماہ سے بجلی کے اضافی بل بھیجنے کیساتھ صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری

بجلی کے شعبے کی ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریگولیٹر نے تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ صارفین کو اپنی نااہلیوں اور اعلیٰ سسٹم کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے

وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور شدہ ‘اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2019’ میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے خبردار کیا ہے کہ ‘زیادہ نقصان’ والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی موجودہ پالیسی کو جاری رکھنے سے فروخت میں اضافہ کم ہوجاتاہے اور توانائی کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ نیپرا نے خبردار کیا کہ ‘اصلاحاتی ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے اور اس کی اصل روح کے مطابق اس پر عمل نہ کرنے سے بجلی کا شعبہ زوال پذیر ہوجائے گا اور ناقص گورننس کے نتیجے میں عوامی شعبے کی خستہ حالی نہ صرف اس شعبے کو نیچے لائے گی بلکہ اس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی معیشت میں بھی سست روی کا سامنا ہوگا’۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران نومبر اور فروری کے مہینوں میں اچانک نقصانات ہوئے، اکتوبر میں نقصانات میں کمی آئی اور دسمبر میں اس میں تیزی سے اضافہ ہوا، اسی طرح جنوری میں نقصانات میں کمی آئی اور مارچ میں اس میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان دونوں رجحانات کی وضاحت کرنا مشکل ہے تاہم ڈسکوز کی جانب سے نقصانات کے حوالے سے ان کی پوزیشن پر بہتر نتائج ظاہر کرنے کے لیے چند ایڈجسٹمنٹس کیے گئے ہیں۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ ‘اس وجہ سے اضافی بلنگ کا مسئلہ ابھی بھی بجلی کے صارفین کو پریشان

کررہا ہے، ڈسکو ابھی بھی بجلی کے یونٹوں کو منظم طریقے سے ردو بدل کرنے میں ملوث ہے تاکہ ان کی تقسیم کے نقصانات کا انتظام ہوسکے جو حقیقتا بہت زیادہ ہیں’۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈسکوز اپنی ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کے نقصانات کو کم نہیں کرسکا، گزشتہ 5 سالوں کے اعدادوشمار سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ گزشتہ سال کے نقصانات کے مقابلہ میں مالی سال 2018-19 میں صرف 0.6 فیصد کی معمولی کمی ہوئی ہے۔ اسی طرح ڈسکوز کی مجموعی ریونیو وصولی کے شعبے کی بھی کارکردگی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں نوٹ کی گئی ہے کیونکہ مالی سال 2018-19 میں (بغیر سبسڈی) وصولی کا تناسب گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 0.18 فیصد بہتر ہوا ہے۔ اس بہتری سے 10 ارب روپے کی بچت سامنے آئی، 6 بہتر کمپنیاں اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، پشاور اور حیدرآباد گر گئیں جبکہ قبائلی، ملتان، سکھر اور کوئٹہ کی وصولی میں کچھ بہتری نظر آئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت توانائی نے گزشتہ سال کی جمع شدہ رقم کے مقابلے میں وصولیوں میں 15.5 فیصد اضافے کا دعوی کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فروخت شدہ یونٹوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 2.16 فیصد کا اضافہ ہوا تھا جبکہ بل کی گئی رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.22 فیصد زیادہ تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں