30

اپنی ایمانداریاں اپنے پاس رکھو ، میرا پسندیدہ افسر وہی ہو گا جو ۔۔۔۔

2018 کے الیکشن کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی تو خان صاحب کا اصل ٹیسٹ شروع ہوگیا ، میرا یہ خیال تھاکہ عمران خان صاحب وزیرِاعظم بنتے ہی لاہور جائیں گے اور ایک طرف اپنی سیاسی ٹیم یعنی وزیرِاعلیٰ اور وزراء اور دوسری طرف چیف سیکریٹری،

آئی جی اور سینئر حکاّم کو بٹھائیں گے اور سیاسی ٹیم سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ آج کے بعد آپ نے سرکاری افسروں کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں کوئی دخل نہیں دینا جِس نے سرکاری معاملات میں مداخلت کی میں اس کے خلاف سخت کارروائی کروںگا۔نامور سابق اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پھرسرکاری حکاّم سے مخاطب ہوکر کہیں گے کہ’’ اب آپ پوری طرح بااختیار اور خود مختار ہیں، لہٰذا میں کوئی بہانہ نہیں سنوںگا اور اب آپ کو deliverکر کے دکھانا ہو گا‘‘اور بس پانچ منٹ میں میٹنگ ختم ہوجاتی۔مگر ہمیں حسرت ہی رہی ،نہ کوئی ایسی میٹنگ ہوئی اور نہ خان صاحب نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کی کبھی بات ہی کی۔ کورونا سے پہلے کسی شادی کی تقریب میں حکمران جماعت کا کوئی سینئر لیڈر مل جاتا تو میں اس سے پوچھا کرتاتھا کہ ’’ آپکی قیادت کا پولیس اور سول سروس کو غیر سیاسی بنانے کا دعویٰ ابھی تک قائم ہے یا دعویٰ بھی واپس لے لیا گیا ہے؟‘‘ تو وہ خاموش ہو جاتے ۔کیونکہ حکومت ملنے کے چند مہینوں بعد ہی باخبر حضرات نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ اب خان صاحب سیاست کے اسرارورموز سمجھنے لگے ہیں، اس لیے آپ ان کے منہ سے پولیس کو غیر سیاسی بنانے کی بات کبھی نہیں سنیں گے اور یہ بات درست ثابت ہوئی۔بہت جلد بعض افسروں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب پی ٹی آئی کے نزدیک سرکاری افسروں کا فرضِ اوّلین غیر جانبدار رہ کر قانون کے مطابق کام کرنے کے بجائے حکومتی پارٹی کے جیتے یا ہارے ہوئے امیدواروں کو خوش اور مطمئن رکھنا ہے۔

اور پھر سرکاری محکموں میں سیاسی مداخلت کا فلڈ گیٹ کھل گیا ۔جس افسر نے تھوڑی سی مزاحمت کی اسے فوراً تبدیل کرادیا گیا۔ تبدیلی سرکارمیں اگر کہیں تبدیلی نظر آئی ،تو وہ سرکاری محکموں میں نظر آئی۔جہاں تبادلوں کے جَھکّڑ چلنا شروع ہوگئے۔ اورپھر چند مہینوں بعد انسپکٹر جنرل پولیس تبدیل کیے جانے لگے۔ کھوج لگایا تو پتہ چلا کہ ہر تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ متعلقہ افسرمسلم لیگ(ن)کو کرش کرنے کا ٹاسک مکمل نہیں کرسکا۔ وزیرِاعظم صاحب نے کبھی کسی آئی جی سے جرائم میں اضافہ ہونے، امن و امان بگڑنے، تھانوں کے حالات بہتر نہ ہونے یا ٹریننگ کا معیار بہتر نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار نہیں کیا۔ جب بھی کوئی آئی جی تبدیلی کا سزاوار قررا پایا صرف اس بات پر کہ وہ پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفوں کے خلاف قاعدے قانون کے مطابق چلنے کے بجائے آہنی ہاتھوں سے کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا کیوں نہیں ہوا۔اور اُس وقت تو ان کے اپنے سپورٹرز بھی حیران و ششدر رہ گئے جب انھیں نے گریڈ بائیس کے ایک بہترین افسر کو پنجاب کے محکمہ انسداد بدعنوانی کی سربراہی سے ہٹا دیا اور گریڈ بیس کے اُس پولیس افسر کو پنجاب کا سربراہ لگا دیا جسکے اپنے خلاف انکوائریاں چل رہی تھیں۔عمران خان صاحب کے پرانے ساتھی کبھی ملتے ہیں تو وہ خود دکھ کا اظہار کرتے ہوئے راقم سے کہتے ہیںکہ ’’ وہ اورعمران خان تھا جسے صرف میرٹ اور دیانتداری پسند تھی، جو اپنی تقریروں اور ٹاک شوز میں آپکی ایمانداری اور انصاف پسندی کی تعریف کیا کرتا تھا اور رول آف لاء ، میرٹ اور انصاف

کے ساتھ اپنی وابستگی کے دعوے کیا کرتا تھا۔لگتا ہے وہ عمران خان وقت کی دھول میں گم ہو چکا ہے۔ یہ جو وزیراعظم ہے یہ کوئی نیا عمران خان ہے‘‘۔اقتدارکے دوسالوںمیں وزیراعظم صاحب کی سوچ اور ترجیحات کے بارے میں تو کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہاتھا مگر دل یہ نہیں مانتا تھاکہ وہ اس حد تک جا سکتے ہیں کہ پنجاب پر بری شہرت کے افسران مسلّط کردیںگے۔پنجاب میں محکمہ انسداد بدعنوانی کی سربراہی کے بعد اب انھوں نے پولیس کے دونوں اہم ترین عہدوں پر تقررّی کاجو کارنامہ انجام دیا ہے اس سے توان کے ووٹراور سپورٹر بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیئے کہ ایک کے بارے میں انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹیںچینلوں پر سنائی جا رہی ہیں اور دوسرے کے بارے میں ایف آئی اے کی رپورٹ کا ہر جگہ تذکرہ ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی یہ کہنا پڑا ہے کہ’’پنجاب پولیس میں حالیہ تبادلے اس بات کی علامت ہیں کہ پولیس میں کس قدر سیاسی مداخلت ہے‘‘، انھوں نے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ‘‘یعنی اچھی شہرت کے افسر تعینات کرنے چاہئیں۔ کل خان صاحب کا ایک حامی اینکر خود کہہ رہا تھا کہ ایسے افسروں کو تعینات کرکے عمران خان نے بدعنوانی کے خلاف بات کرنے کا حق کھو دیا ہے۔ پنجاب کے ساتھ اتنی اخیر آخر کیوں کی جارہی ہے؟چند دنوں میں ہی پنجاب پولیس میں اوپر سے نیچے تک ہر دو افسروں کی شہرت کی داستانیں پھیل چکی ہیں۔یاد رکھیں بدنام افسروں کی کمانڈ انتہائی کمزور ہوتی ہے ، فورس میں ان کے لیے عزّت واحترام کے جذبات بالکل نہیں ہوتے،وہ اپنے تمام وسائل اور انرجی کو اپنا دفاع کرنے
اور اپنے دامن پر لگے داغ دھونے میں ہی صرف کریںگے۔ انھوںنے ڈلیور کیاکرنا ہے؟پنجاب میں کی گئی حالیہ پوسٹنگ سے وزیر اعظم نے اپنی نئی سوچ اورتازہ وژن واضح کردیا ہے کہ ’’ اب مجھے integrityاور کیریکٹر سے کوئی غرض نہیں ہے، اپنی ایمانداریاں رکھو اپنے پاس، میرے پسندیدہ افسر اب وہ ہیں جو سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے تیّار ہوں‘‘۔میرا تمام افسروں کو مشورہ ہے کہ وہ بانیٔ پاکستان کی ہدایات اور آئین اور قانون کے مطابق چلیں اور کسی سیاستدان کا آلۂ کار نہ بنیں ۔ حکمران آنکھیں پھیرلینے میں ایک منٹ نہیں لگاتے ۔ اور پھر آلۂ کار بننے والے افسروں کو بہت برے انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کٹہرے میںکھڑے ہوکر پیچھے دیکھتے ہیںتو انھیں استعمال کرنے والے کہیں نظر نہیںآتے۔کاش پرائم منسٹر صاحب کا کوئی ھمدرد انھیں یہ سمجھاسکتا کہ بری شہرت کے افسر حکومت کے لیے طعنہ اور ایک مستقل liability ہوتے ہیں ، وہ حکومت بچانے کا نہیں جلد گرانے کا موجب بن سکتے ہیں۔خان صاحب کے چاہنے والے دعویٰ کرتے تھے کہ دنیا ادھر کی اُدھر ہوجائے مگر عمران خان بدعنوان افسر کو کبھی منہ نہیں لگائے گا اور وہ کسی بدنام افسر سے ہاتھ نہیں ملائے گا۔کاش کوئی عمران خان صاحب کو بتا سکتا کہ وہ بیس سال اپنے چاہنے والوں کو سہانے خواب دکھاتے رہے۔ مگر ان کی تعبیر بڑی خوفناک نکلی ہے۔ انھوں نے ان تین تعیّناتیوں سے اپنے لاکھوں چاہنے والوں کے دل، حوصلے ، امیدیں اور خواب چکنا چور کر دیے ہیں ۔ان تعیناتیوں سے انھوں نے پنجاب کے ساتھ ظلم کیا ہے اور اس صوبے کے بارہ کروڑ عوام خصوصاً بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔انھوں نے ایسا کرکے ہزاروں سول سرونٹس کی حوصلہ شکنی کی ہے کیونکہ نوجوان افسر اب کہنے لگے ہیں (مجھے آج درجن سے زیادہ میسج آئے ہیں) کہ اگر اعلیٰ ترین عہدوں پر ایسے ہی افسروں نے فائز ہونا ہے توIntegrity کی کیا اہمیّت رہ گئی ؟ اور آخری بات یہ کہ ایسا کر کے عمران خان نے بدعنوانی کے خلاف اپنے بیانیئے کو اپنے ہاتھوں سے ہی دفن کردیا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف crusadeکو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں