56

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم :

ایک واقعہ مسعود مفتی نے بھی لکھا ہے ۔اپنے زمانہ طالب علمی میں وہ ایک مرتبہ رات گئے لندن میں گھر کی طرف پیدل جا رہے تھے ۔ راستہ میں ایک دودھ والی مشین دیکھ کر رکے ۔ اس میں سکہ ڈالا ۔ مشین نے سکہ تو ہضم کرلیا لیکن
نامور کالم نگار فاروق عالم انصار ی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے دودھ کی بوتل برآمد نہ ہوئی ۔ چند منٹ کی ناکام کوشش کے بعد وہ آگے چل پڑے ۔ کافی دور تک جانے کے بعد انہیں کسی کے ہانپتے ہوئے دوڑنے کی آواز سنائی دی ۔ مڑ کر دیکھا تو وہ ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جو مشین سے بوتل نکال کر اسے دینے کیلئے دوڑا آرہا تھا۔ اس واقعہ سے احمد شمیم کی نظم کاپہلا مصرعہ یاد آتا ہے ۔’ ’کبھی ہم خوبصورت تھے ‘‘ ۔ایسا کوئی اِکا دُکا واقعہ ہمارے ہاں بھی نظر آجاتا ہے ۔ خاکسار لیڈر علامہ مشرقی اپنے انگلستان میں پانچ سالہ قیام میں ایسے حیرت انگیز واقعات دیکھتے رہے کہ سڑک کنارے اخبارات پڑے ہیں ۔ کوئی دکاندار موجود نہیں ۔ لوگ ایمانداری سے ساتھ پڑی پلیٹ میں پیسے ڈال کر اخبار لے جاتے ہیں۔ پھر جب وہ ہندوستان آکر پشاور ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے تو ایسی ہی اخلاقی تربیت کیلئے انہوں نے اس اسکول کی ٹک شاپ میں یہی نظام رائج کیا۔ کسی بھی بے قاعدگی پر کڑی سزا دے کر اسے کامیاب بھی بنا دیا۔ ایسے بندوبست کیلئے سزا بھی کڑی چاہئے اور منتظم کی پوری محنت اور توجہ بھی ۔ پھر ایسے منتظم ہماری تاریخ میں دکھائی نہ دیئے ۔
بونوں کا زمانہ آگیا ۔اس قحط الرجال میں بھی نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خاں جیسے لوگ غنیمت تھے ۔ اندھی رات روشنی کی اک کرن سے ہی جی اٹھتی ہے ۔ لڑائی اور وباء میں ایک سے سنگین حالات ہوتے ہیں۔1965ء کی پاک بھارت لڑائی میں یہی ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان تھے ۔ لڑائی شروع ہوئی تو لوگوں نے خوف کے مارے لاہور سے بھاگنا شروع کر دیا۔ جی ٹی روڈ پر صرف ایک گاڑی کا رخ لاہور کی طرف تھا۔ یہ ملک امیر محمد خاں تھے جو لڑائی شروع ہونے کی اطلاع پر میانوالی سے لاہور پہنچ رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی بے پناہ انتظامی صلاحیتوں سے اس 17روزہ لڑائی میں آٹے اور خوردنی اشیاء کا بھائو آنہ ٹکا ، چھدام دمڑی بھی نہ بڑھنے دیا۔ پچھلے چند ماہ سے پوری دنیا کرونا وباء کے نرغے میں ہے ۔ ہم بھی اسی کے چنگل میں رہے ہیں ۔ اس وباء میں ماسک اور سینی ٹائزر زندگی کیلئے دانہ گندم کی طرح اہم ہیں۔لیکن وباء کے دنوں میں ماسک ، سینی ٹائزر اور آٹا کی قیمتوں پر کوئی حکومتی کنٹرول دکھائی نہ دیا۔ تاجروں نے عوام کو جی بھر کے لوٹا ۔ حکومتی رٹ کہیں نظر نہ آئی ۔ حکومتی رٹ بحال رکھنے والے اہلکار اپنی لوٹ مار میں مصروف رہے ۔ کالم کا آغاز وزیرا علیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکمرانی کے بارے میں صحافی کے پوچھے ہوئے ایک سوال سے ہے ۔ اس سوال سے دھیان ملک امیر محمد خاں کی طرف چلا جاتا ہے ۔ کیا ان سے بھی یہ سوال پوچھنا ممکن تھاکہ آپ کی حکومت میں کس کا حکم چلتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں