73

لاہور موٹروے واقعہ : 72 گھنٹوں میں ملزم کا سراغ دراصل کیسے لگایا گیا ، اسکے لیے کیا ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ؟

وہ سانحہ جس نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ، اس معاملے میں ایک بڑی کامیابی تو یہ حاصل ہوگئی کہ ان مکروہ درندوں کی شناخت ہوگئی۔ وہ دونوں بدبخت جنہوں نے مظلوم خاتون کی زندگی برباد کی ، ان شااللہ اب عبرت ناک سز ا
ان کا مقدر بنے گی۔نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ صوبائی حکومت اور پولیس کو اس کامیابی پر سراہنا چاہیے۔ یہ ایک ایسا جرم تھا جس کے مرتکب ملزموں کو ڈھونڈناآسان نہیں تھا۔ آدھی رات کو اس واردات کے بعد نامعلوم ملزم غائب ہوگئے ، ان تک پہنچنا بڑا چیلنج تھا۔ پولیس کے پاس بظاہر ایک ہی آپشن تھی کہ قریبی دیہات کو چیک کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ مشکوک ملزموں کا ڈی این اے لیا جائے تاکہ متاثرہ خاتون کے سیمپل سے میچ کر نے کی صورت میں انہیں پکڑا جا سکے ۔اس کیس میں ملزم کا تعلق قریبی گائوں سے نہیں تھا ۔صورتحال پریشان کن ہوجانی تھی، مگر خوش قسمتی سے مرکزی ملزم عابدعلی کا فرانزک ڈیٹا موجود تھا جو میچ(Match)کر گیا اور اس کو ٹریس کرنا ممکن ہوگیا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں پر پولیس کی کارکردگی کو سراہنا بنتا ہے۔ رات بارہ بجے انہیں سیمپل میچ کرنے کی اطلاع ملی اور انہوں نے رات ہی میں ملزم کا کھوج لگا لیا، اس کے بارے میں تمام ریکارڈ اکھٹا کر لیا، شناختی کارڈ ٹریس ہوگیا اور اس کے خاندان کے فورٹ عباس ، بہاولنگر سے ضلع شیخوپورہ شفٹ ہوجانے کے باوجود موجودہ مکان کے ایڈریس تک پہنچ گئے۔ ملزم کے پاس چار سمیں تھیں، وہ سب بند تھیں، مگرپولیس ماہرین اس سم تک پہنچ گئے جو ملزم کے نام پر نہیں ، مگر وہ استعمال کر رہا تھا۔ جیوفینسنگ سے یہ کنفرم کر لیا گیا کہ یہی سم والا موبائل موقعہ واردات پر موجود تھا۔ اسی نمبر سے دوسرے ملزم کو بھی ٹریس کیا گیا اور جیو فینسنگ سے اس کی بھی تصدیق کر لی گئی۔ ان سطور کے لکھے جانے تک ملزم گرفتار نہیں ہوئے تھے، مگر ان کی گرفتاری نوشتہ دیوار ہے۔ ان کے گرد گھیرا بے حد تنگ ہوچکا اور ذلت کی موت کے سوا ان شااللہ وہ زندگی میں تو قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ یہ سب واردات کے اگلے تین دنوں میں ہوگیا۔ ستر بہتر گھنٹوں میں ملزموں تک پہنچ جانا پولیس اور انتظامیہ کی کامیابی ہے۔ پولیس اور سسٹم کی ناکامی پر جب تنقید کی جاتی ہے تو ملزم ٹریس کرنے پرستائش بھی ضروری ہے۔ اگلا مرحلہ مضبوط چالان بنا کر عدالت میں پیش کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں