49

سرینا ولیمز کا 24 واں گرینڈ سلام جیتنے کا خواب چکنا چور

بیلاروس کی وکٹوریہ آزارنیکا نے یو ایس اوپن 2020 کے سیمی فائنل میں امریکہ کی سرینا ولیمز کو شکست سے دو چار کرکے اس کا 24 واں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کا خواب چکنا چور کردیا۔

آزارنیکا نے سیمی فائنل میں پہلا سیٹ ہارنے کے باوجود سرینا ولیمز کو 1-6,6-3,6-3 سے شکست دی۔ سرینا ولیمز نے پہلے سیٹ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا تھا اور اپنی حریف کھلاڑی کو زیادہ جم کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا تھا۔
سرینا ولیمز یوایس اوپن جیت کر آسٹریلین کھلاڑی مارگریٹ کورٹ کا 24 گرینڈ سلیم سنگلز ٹائٹل جیتنے کا ریکارڈ برابر کرنا چاہتی تھی لیکن یہ پانچواں موقع ہے کہ اس کی یہ ریکارڈ برابر کرنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ اس سے قبل چار گرینڈ سلیم فائنلز میں سرینا ولیمز کو شکست ہو چکی ہے۔

تیسرے سیٹ میں سرینا ولیمز انجری کا شکار ہوئی اور اس نے پائوں کے پٹھے میں تکلیف کی وجہ سے اپنے ٹرینر سے مدد حاصل کی۔ اس تکلیف کی وجہ سے وہ تیسرے سیٹ میں متاثرکن کھیل پیش نہیں کر سکی تھی۔ سرینا ولیمز کا موجودہ ٹورنامنٹ میں یہ 3 سیٹ والا مسلسل چوتھا میچ تھا۔ سرینا ولیمز نے اپنا آخری گرینڈ سلیم ٹائٹل 2017 میں آسٹریلین اوپن میں جیتا تھا جب وہ دو ماہ کی حاملہ تھی۔

آزارنیکا نے سرینا ولیمز کو شکست دے کر پرانا بدلہ بھی چکا دیا۔ سرینا ولیمز نے مسلسل سن 2012 اور سن 2013 کے یوایس اوپن کے فائنلز میں وکٹوریہ آزارنیکا کو شکست سے دو چار کیا تھا۔ آزارنیکا بیلا روس کی واحد کھلاڑی ہے جس نے کوئی گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتا ہے۔ وہ گزشتہ چند برسوں سے فٹنس مسائل اور بیٹے کی کسٹڈی کی قانونی جنگ کی وجہ سے مشکلات کا شکار اور ٹینس کورٹ سے دور رہی تھی۔ اس کے ہاں دسمبر 2017 میں بیٹے لیو کی ولادت ہوئی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ ان حالات نے مجھ میں آخری دم تک لڑنے کا حوصلہ پیدا کیا اور اب میں زیادہ مضبوط عزم کے ساتھ میدان میں اترتی ہوں۔ میں شروع سے ہی ہار کو مشکل سے قبول کرتی ہوں تاہم حالات کی وجہ سے اب میرا رویہ زیادہ فلسفیانہ ہو گیا ہے۔

آزارنیکا کو ٹینس کورٹ میں واپس آنے اور کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کیلئے کافی محنت کرنا پڑی اور اب اس کی یہ محنت رنگ لا رہی ہے۔ کرونا سے متاثرہ ٹینس سیزن میں وہ ویسٹرن اینڈ سدرن اوپن میں فتح کے ساتھ مسلسل 11 میچز جیت چکی ہے۔

سرینا ولیمز اور وکٹوریہ آزارنیکا عام طور پر بڑے ٹورنامنٹ کے آخری مراحل میں مد مقابل آتی ہیں۔ دونوں کا آخری مقابلہ سن 2015 کے ومبلڈن اوپن کے کوارٹر فائنل میں ہوا تھا جس میں سرینا فتح یاب رہی تھی ۔ دونوں اچھی سہلیاں ہیں اور اس یو ایس اوپن سیمی فائنل سے قبل آزارنیکا کا کہنا تھا کہ اسے سرینا کے ساتھ کھیلنے میں مزا آتا ہے مجھے اس سے مقابلے میں ہار جیت کی پروا نہیں ہوتی۔ میں اس کے ساتھ کھیل کر انجوائے کرتی ہوں اس کے ساتھ مقابلے سے میرے کھیل میں نکھار آتا ہے۔

اس سے قبل سرینا ولیمز اور آزارنیکا کے مابین 22 میچز کھیلے گئے تھے جن میں 18 میں سرینا فتح یاب رہی اور آزارنیکا صرف 4 میچ جیت پائی جبکہ گرینڈ سلیم ایونٹس میں کھیلے جانے والے 10 میچز بھی امریکن اسٹار سرینا ولیمزکے نام رہے تھے۔ سرینا پہلی بار آزارنیکا کے سامنے گرینڈ سلیم ایونٹ میں ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ سرینا ولیمز نے اس کامیابی پر اپنی حریف کو مبارکبادی دی اور کہا کہ اس نے واقعی مجھ سے زیادہ بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا اور وہ اس جیت کی مستحق تھی۔

یوایس اوپن ٹینس چیمپئن شپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ دو مائیں سیمی فائنل میں ایک دوسرے کے مد مقابل تھیں جبکہ سیڈ 3 سرینا ولمیز نے کوارٹر فائنل میں بھی بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور ماں اور ان سیڈڈ کھلاڑی پرونکووا کو 6-4,3-6,2-6 سے ہرا کر سیمی فائنل میں رسائی کی تھی۔ پرونکووا نے پہلا سیٹ جیت لیا تھا اور دوسرے سیٹ میں بھی ابتدائی دو گیمز میں وہ حاوی رہی تھی لیکن اس کے بعد سرینا ولیمز نے مضبوط اعصاب اور جارحانہ کھیل کی بدولت کھیل کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔ بلغارین کھلاڑی کے پاس اس کی برق رفتار سروس گراؤنڈ سٹرکس اور بیک ہینڈ شاٹس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ سرینا ولیمز کا کہنا تھا پرونکووا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا میرے لیے یہ میچ انتہائی اہمیت کا حامل تھا اس لیے میں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔ سرینا ولیمز کے ڈولیٹ ہینڈ شاٹس نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ بلغارین کھلاڑی تیسرے سیٹ میں تھکی ہوئی نظر آنے لگی جس کا سرینا ولیمز نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ آرتھر ایش اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا یہ میچ ڈھائی گھنٹے جاری رہا جس میں سرینا ولیمز نے 20 ایسز لگائیں اور8 برسوں میں ایک میچ میں اس کی ایسز کی سب سے بڑی تعداد تھی اور اس نے ٹورنامنٹ میں اپنی ایسز کی تعداد کو 64 تک پہنچایا ۔

وکٹوریہ آزارنیکا نے اس سے قبل 2 مرتبہ آسٹریلین اوپن ٹینس چیمپیئن شپ جیتی ہے اور وہ سن 2013 کے بعد پہلی بار کسی گرینڈ سلیم ایونٹ کے فائنل میں پہنچی ہے جہاں اس کا مقابلہ جاپان کی سیڈڈ 4 ناؤمی اوساکا سے ہو گا جس نے سن 2018 کے یوایس اوپن فائنل میں سرینا ولیمز کو ہی غیر متوقع طور پر ہرا کر اپنا پہلا گرینڈ سلیم اعزاز جیتا تھا اور سرینا کو مارگریٹ کا ریکارڈ برابر کرنے سے محروم کیا تھا۔ نائومی اوساکا نے سیمی فائنل میں امریکہ کی جینیفر براڈی کو 7-6,3-6,6-3 سے شکست دی۔ نائومی اوسکا نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران میچز میں نسل پرستی کے خلاف نعرے والے مختلف ماسکس استعمال کیے۔

آزارنیکااور نائومی اوساکا کے مابین اس سے قبل 3 میچز کھیلےگئے ہیں جن میں اوساکا کا پلہ بھاری رہا ہے اور وہ 2 میچز جیتنے میں کامیاب رہی جبکہ آزارنیکا ایک میچ جیت پائی۔ اگر آزارنیکا اس فائنل میں اوساکا کو شکست سے دو چار کرتی ہے تو پھر اس بار یو ایس اوپن کی مینز اور ویمنز دونوں کیٹیگریز میں نئے چیمپئن سامنے آئیں گے کیونکہ مردوں کے سیمی فائنلز میں رسائی کرنے والے چاروں کھلاڑیوں نے کوئی گرینڈ سلیم اعزاز نہیں جیتا ہے۔ مینز سیمی فائنل میں ڈومینک تھیم کا مقابلہ میڈیڈیف سے اور زیوریف کا مقابلہ پابلو سیریریو بسٹا سے ہے۔

سرینا ولیمز کے پاس سال رواں میں مارگریٹ کورٹ کا ریکارڈ برابر کرنے کیلئے صرف ایک اور موقع ہے کیونکہ فرنچ اوپن کی انتظامیہ نے ری شیڈولنگ کرتے ہوئے اس گرینڈ سلام ایونٹ کو تاخیر سے منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے گو 38 سالہ سرینا ولیمز نے ابھی تک اس ایونٹ میں شرکت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ میں حوصلہ ہارنے والی نہیں ہوں۔ میں مارگریٹ کورٹ کا ریکارڈ برابر کرکے دم لوں گی۔

یوایس اوپن میں خواتین عالمی رینکنگ کی ٹاپ 10 میں سے 6 کھلاڑیوں کی عدم شرکت کی وجہ سے سرینا ولیمز کیلئے 24 واں گرینڈ سلام جیتنے کا یہ سنہری موقع تھا جبکہ ٹاپ سیڈڈ پلسکووا بھی ابتدائی راؤنڈ میں شکست سے دو چار ہو گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں